Al-Risala · February 1997 · page 21

سفر نامہ یورپ ۳

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۱

اصبح امراً عادياً، بل ان من يتظاهر بالتدين اكثر فانه يحصل على منصب اعلى. ووسط استغراب وربما قلق بعض الذين حضروا الاجتماع قال الرئيس لزائره انه على الحق. (المجلة، لندن، ٢٢–٢٨ يوليو (۱۹۹۲) یہی ہر اس سیاسی انقلاب کی بات ہے جو موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر لایا جا رہا ہے۔ اسلامی انقلاب ہمیشہ دعوت اور کردار سازی اور صابرانہ جدوجہد اور تدریج کے اصول پر برپا ہوتا ہے۔ جب بھی سیاسی ہنگامہ آرائی یا گن کلچر کے ذریعہ انقلاب لانے کی کوشش کی جائے گی تو اس کا انجام ایران جیسا ہوگا، خواہ اس کا نام اسلامی انقلاب یا آسمانی انقلاب کیوں نہ رکھ دیا جائے۔ کانفرنس میں آنے والے ایک صاحب کو شکایت تھی کہ ان کو یہاں بلایا گیا۔ لیکن جو پیپر انہوں نے تیار کیا تھا ، اس کو پڑھنے کا موقع انہیں نہیں دیا گیا۔ میں نے ان کا پیپر دیکھا تو وہ تنقیدی انداز کا تھا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ پیس (امن) اچھی چیز ہے، مگر پیس کو انصاف کے ساتھ (with justice) ہونا چاہئے۔ آج کی دنیا میں ہر طرف بے انصافی (injustice) ہے۔ اس کے رہتے ہوئے پیس کا کوئی مطلب نہیں۔

میں نے کہا کہ یہ سوچ کے فرق کا معاملہ ہے۔ آپ انقلابی (بالفاظ دیگر، متشددانہ) طریقہ میں یقین رکھتے ہیں۔ آپ کا خیال ہے کہ بے انصافی صرف لڑ کر ہی ختم ہو سکتی ہے۔ اس لئے پہلے ہمیں لڑ کر بے انصافی کو ختم کرنا ہے۔ اس کے بعد ہی پیس کا ماحول قائم ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ بے انصافی کے خلاف لڑائی چھیڑنا ایک برائی کو دوسری برائی کے ذریعہ ختم کرنا ہے۔ اس قسم کی کوشش صرف برائی میں اضافہ کرتی ہے جس کا نمونہ آپ مختلف ملکوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ لڑائی بھڑائی کا ذہن ختم کیا جائے تاکہ پیس کا ماحول قائم ہو۔ اس کے بعد ہر ایک کو موقع ہوگا کہ وہ اپنے مطلوب مقصد کے لئے کوشش کرے۔ پہلے آپ امن کا ماحول قائم کیجئے۔ اس کے بعد پرامن ذرائع سے بے انصافی کو ختم کرنے کی کوشش کیجئے ۔ یہی کام کرنے کا صحیح اور نتیجہ خیز طریقہ ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ مجھ کو صدام حسین کا کردار پسند ہے۔ دیکھیےوہ ظالم کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page