سفر نامہ یورپ ۳
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۲
ہر شرط پر رضامند ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں آج بچوں کو دودھ نہیں ملتا۔ کیوں کہ امریکہ کی طرف سے عراق کی ناکہ بندی کئے ہوئے ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری امریکہ پر نہیں ہے بلکہ خود صدام حسین پر ہے۔ (البادئ اظلم)
عراق کے پاس زبردست دولت تھی۔ مگر صدام حسین نے عراق کی پوری اقتصادی طاقت کو ایک جھوٹی جنگ کی تیاری میں لگا دیا اور ملک کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اس کے بجائے اگر وہ ملک کی ترقی کے لئے کام کرتے تو آج عراق میں اتنا زیادہ دودھ پیدا ہورہا ہوتا کہ وہ باہر کے ملکوں کو دودھ ایکسپورٹ کرتا۔ کجا کہ دودھ کے لئے اس کا دار و مدار تمام تر باہر کے ملکوں پر ہو جائے۔
۴ اکتوبر کو شام کا کھانا فلارنس کے باہر ایک ہوٹل میں تھا۔ اس کا نام وِلاویکیا ریستوران (Villa Vecchia Restaurant) تھا۔ یہ فلارنس کے باہر ۱۰ میل کے فاصلہ پر ہے۔ وہ ایک پہاڑی پر سڑک کے کنارے بنایا گیا ہے۔ اس کا پورا ماحول نہایت خوبصورت ہے۔ اس نام کا مطلب ہے قدیم محل۔
کھانے کی میز پر مختلف ملکوں کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور مختلف زبانیں بولتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک صاحب سب سے زیادہ بول رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت سی زبانیں جانتے تھے اور ہر ایک سے براہ راست ربط قائم کرسکتے تھے۔ بظاہر دیکھنے میں وہ غیر اہم معلوم ہوتے تھے۔ مگر جب وہ بولنے لگے تو میز پر وہی سب سے زیادہ چھا گئے۔
میں نے سوچا کہ انسان کا ذہن بھی کیسا عجیب و غریب ہے۔ وہ اتنا عظیم ہے کہ اس کو کمپیوٹر یا سپر کمپیوٹر کہنا بھی اس کی تصغیر کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ساری دنیا کے تمام کمپیوٹر مل کر بھی ایک انسانی ذہن کی برابری نہیں کرسکتے۔ یہ انسان ہے جو کمپیوٹر کی تخلیق کرتا ہے کسی کمپیوٹر کے لئے ممکن نہیں کہ وہ انسان کی تخلیق کرسکے۔
زبان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ نعمت صرف انسان کو حاصل ہے۔ زبان ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ تبادلہ خیال کرسکتا ہے۔ حیوان ایک دوسرے سے تبادلہ خیال نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انہیں وہ چیز حاصل نہیں ہے جس کو زبان کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues