سفر نامہ یورپ ۳
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۴
قدیم زمانہ میں گرہن کے ساتھ عجیب عجیب توہماتی عقیدے وابستہ تھے۔ اسلام نے پہلی بار اس کو توہمات سے نکالا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ گرہن خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس لئے جب گرہن پڑے تو تم خدا کو یاد کرو۔
سورج گرہن کیا ہے۔ سورج گرہن در اصل یہ ہے کہ زمین اور سورج کے درمیان چاند اس طرح آجائے کہ وہ پوری طرح سورج کو ڈھک لے۔ یہ ایک نہایت عجیب واقعہ ہے کیو نکہ دونوں کے سائز میں بہت زیادہ فرق ہے۔ چاند کا ڈایا میٹر صرف ۲۱۶۰ میل ہے۔ جبکہ سورج کا ڈایا میٹر ۸۶۵۰۰۰ میل ہے۔ یہ کتنا غیر معمولی حساب ہے کہ اتنے زیادہ فرق کے با وجود خلا میں دونوں ایک ایسی پوزیشن پر آجائیں کہ دیکھنے والوں کے لئے دونوں کا سائز بالکل برابر ہوجائے۔ اسی طرح اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب سورج کو چاند ڈھک لے اور وقتی طور پر زمین پر اندھیرا چھاجائے تو انسان سوچے کہ خدا اسی حالت کو اگر مستقل بنادے تو زمین پر بسنے والے انسانوں کا کیا حال ہو گا۔ اس طرح گرہن پر غور کرنا آدمی کو خالق کی عظمت کا احساس دلاتا ہے، اور اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔
یہ ۲۵ اکتوبر کی صبح ہے۔ سورج کی روشنی چاروں طرف پھیل چکی ہے۔ میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوا ہوں۔ باہر کھلی جگہ پر بہت سی کاریں کھڑی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس میں کئی کاریں عین اسی شکل کی ہیں جن کو ہندوستان میں ماروتی سوزو کی کار کہتے ہیں۔ یہ کاریں اسی سوزوکی کا اطالوی ماڈل ہیں۔ جاپان یہاں سے بہت دور ایشیا کا ایک ملک ہے۔ مگر اس کا صنعتی نفوذ یورپ کے ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔
یہ جدید دور کی اس چیز کا کرشمہ ہے جس کو مواصلات (communication) کہا جاتا ہے۔ مواصلاتی قوت نے جدید دور میں پوری دنیا کو ایک عالمی بستی (global village) کی حیثیت دے دی ہے۔ آج زمین کے ایک گوشہ میں بیٹھ کر آپ ساری دنیا میں اپنا کام پھیلا سکتے ہیں۔
یہ ایک عظیم قوت ہے جو موجودہ دنیا میں اس لئے ظاہر ہوئی تھی کہ دین حق کے حاملین اس کو استعمال کر کے خدا کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچا دیں، یہاں تک کہ حدیث کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues