سفر نامہ یورپ ۳
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۵
وقت ایک عجیب و غریب فتنہ مسلم دنیا میں پیدا ہو گیا۔ انھوں نے دنیا کی قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر ان کے خلاف جگہ جگہ سیاسی اور مادی لڑائی چھیڑ دی۔ جس کمیونیکیشن کو دعوت کے لئے استعمال کرنا تھا وہ کمیونیکیشن عداوت کے لئے استعمال ہونے لگا۔
یہ احمقانہ لڑائی آج اسلام اور ملتِ اسلام کے نام پر ساری دنیا میں جاری ہے۔ عالمی میڈیا نے اس کو مزید توسیع دے کر ایک ایک شخص تک اسے پہنچا دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان انتہائی غیر ضروری طور پر نفرت اور توحش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ نفرت اور توحش کی فضا میں حق کی پیغام رسانی کا کام نہیں کیا جا سکتا۔
اس احمقانہ لڑائی میں عملی طور پر اگرچہ صرف تھوڑے سے مسلمان شریک ہیں، مگر بقیہ مسلمان یا تو اس کے بارہ میں چپ ہیں یا اس کو جہاد بتانے میں مشغول ہیں۔ اس طرح سارے کے سارے مسلمان براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔ یہ بلا شبہ ایک جرم ہے، بلکہ شاید سب سے بڑا جرم۔
چیچنیا کے بھی تین صاحبان اس کانفرنس میں آئے ہیں۔ ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ ہم لوگ دوطرفہ مصیبت میں مبتلا ہیں۔ اس وقت حال یہ ہے کہ چیچنیا کی بستیاں کی بستیاں اور شہر کے شہر تباہ ہو چکے ہیں۔ مگر عالمی ایجنسیوں کو ہم سے کوئی دلچسپی نہیں۔ حتی کہ عالمی میڈیا میں ہماری خبریں تک نہیں آتیں۔ دوسری طرف ہمارے جو لیڈر ہیں وہ آج بھی جنگ کی باتیں کرتے ہیں۔ ساری تباہی کے باوجود وہ خاتمہ تک جنگ (fight to finish) کا نعرہ لگاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک چیچنیا، بوسنیا، کشمیر اور اس طرح کے دوسرے تمام مقامات کا کیس ایک ہی کیس ہے۔ ہر جگہ کے لوگوں پر وہ حدیث صادق آتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص نادان کے چھوٹے شر کو برداشت نہیں کرے گا اس کو نادان کے بڑے شر کو برداشت کرنا پڑے گا۔
میں نے کہا کہ ان تمام جگہوں پر یکطرفہ اعلانِ آزادی سے پہلے لوگوں کو ہر قسم کے مواقع
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues