سفر نامہ یورپ ۳
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۶
ملے ہوائے تھے۔ البتہ ایک مسئلہ تھا جس کو آپ سیاسی مسئلہ کہہ سکتے ہیں۔ انھوں نے سیاسی مسئلہ کو ختم کرنے کے لئے اقدام کسیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ چھوٹا مسئلہ بڑھ کر بہت زیادہ بڑا مسئلہ بن گیا۔
میں نے کہا کہ اس دنیا میں برائی سے خالی زندگی (evil-free life) ممکن نہیں۔ یہاں آدمی کو چھوٹی برائی (lesser evil) اور بڑی برائی (greater evil) کے درمیان انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ میں نے اٹلی کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ نارتھ اٹلی زیادہ خوش حال ہے اور ساؤتھ اٹلی اس کے مقابلہ میں کم خوش حالی کے مسئلہ سے دوچار ہے۔ اگر ساؤتھ اٹلی کے لوگ اس مسئلہ کو لے کر آزادی اور علیحدگی کی پر تشدد تحریک چلائیں تو ان کا مسئلہ تو حل نہیں ہوگا، البتہ وہ زیادہ بڑے اور زیادہ سنگین مسائل میں مبتلا ہو جائیں گے۔
حاضرین نے میری بات سے اتفاق کیا۔ اٹلی کے ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے میری آنکھ کھول دی۔ آپ نے نہایت سادہ طور پر ایک بہت بڑی حقیقت کو ہمیں بتا دیا۔ چیچنیا سے آنے والے مسلمانوں میں ایک صاحب وہ تھے جو عربی زبان بخوبی بول سکتے تھے۔ چنانچہ ان سے کافی گفت گو ہوئی ۔ وہ ایک ریلیجس سنٹر کے چیئرمین ہیں۔ وہ ادھیڑ عمر کے تھے۔ انھوں نے اپنا نام مفتی محمد بتایا :
Mufty Magomed-Khaji Albogachiev (Tel. 873-22-24312)
انھوں نے بتایا کہ موجودہ جنگ سے چیچنیا کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ کثیر تعداد میں بستیاں اور ش تباہ ہوگئے ہیں۔ مزید تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بظاہر ہر روسی کی قیمت پر چیچنیا کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تم ہمارے سیاسی اقتدار کو چیلنج نہ کرو۔ اس کے بعد ہم تم کو ہر طرح کی آزادی دینے کے لئے تیار ہیں۔ اقتصادی، تعلیمی، مذہبی، سماجی ہر میدان میں تم کو عمل کی پوری آزادی ہوگی۔ مگر شرط یہ ہے کہ ہمارے خلاف تم اپنی موجودہ مسلح جنگ بند کرو۔
میں نے ان کو حضرت عائشہ کی روایت سنائی جس میں وہ فرماتی ہیں کہ ما خیر رسول الله صلی الله علیه وسلم بین امرين الا اختار ايسر هما۔ میں نے کہا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues