Al-Risala · February 1997 · page 27

slavery or freedom, choose between the two

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۷

آپ کے بیان کے مطابق، آپ کے لئے چیچنیا میں ایسر کا انتخاب موجود ہے، پھر آپ ایسر کا انتخاب کیوں لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعب (قوم) تو اختیار ایسر کے لئے تیار ہے۔ مگر ہمارے سیاسی لیڈر کہتے ہیں کہ مکمل آزادی سے کم کوئی چیز ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

میں نے کہا کہ یہ تو واضح طور پر پیغمبر اسلام کی سنت کے خلاف ہے۔ پھر پیغمبر کی ثابت شدہ سنت کو چھوڑ کر آپ کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہمارے لیڈر سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہیں وہ ہمارے لئے اور ہماری قوم کے لئے موت ہے ہے(ھوموت لنا ولشعبنا)یہ یہ گفت گو مفتی محمد صاحب سے ۲۵ اکتوبر ۱۹۹۵ کی شام کو فلارنس میں ہوئی۔

ایک پرجوش مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک ملک میں مسلمانوں کی طرف سے چلائی جانے والی سیاسی آزادی کی تحریک میں شامل ہیں۔ میں نے کہا کہ سیاسی آزادی کی تحریک موجودہ حالات میں سراسر تباہ کن ہے۔ اور بالفرض اگر آپ کی مطلوب آزادی مل جائے تب بھی آخر کار وہ آپ کو مایوسی کے سوا کچھ اور دینے والی نہیں ۔

میں نے ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ ۱۹۴۷سے پہلے جب ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی تو، ہمارے لیڈر پر جوش طور پر یہ نعرہ لگاتے تھے کہ غلامی یا آز ادی، دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرلو:

slavery or freedom, choose between the two

مگر جب ہندوستان آزاد ہو گیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ابتدائی مفروضہ ہی غلط تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ غلامی اور آزادی کے درمیان انتخاب کا معاملہ نہ تھا، بلکہ دیشی سیاست دانوں کی لوٹ یا بیرونی سیاست دانوں کی لوٹ میں انتخاب کا معاملہ تھا۔ چنانچہ بظاہر آزادی کے پچاس سال بعد بھی اصل مسئلہ (لوٹ) کا خاتمہ نہیں ہوا۔ جو ہوا وہ صرف یہ کہ پہلے بیرونی ملک کے لوگ ہمارے اوپر اپنے سیاسی حوصلہ کی تکمیل کر رہے تھے، اب خود اپنے ملک کے لوگ اپنے سیاسی حوصلوں کے لئے ہم کو آزمائش گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ جہاں تک عام ہندوستانی کا سوال ہے، وہ آج بھی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page