slavery or freedom, choose between the two
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۸
پہلے ہی کی طرح مصائب وشدائد کا شکار ہے۔
میں نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی انتخاب کسی اور دو چیز کے درمیان ہوتا ہے۔ مگر سطحی لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ کسی اور دو چیز میں ان کے لئے انتخاب کا موقع ہے۔ حالاں کہ وہ فرضی تمناؤں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہی آپ جیسے لوگوں کا حال بھی ہے۔ ایک روز گھومتے ہوئے ہم لوگ ایک مقام پر پہنچے۔ یہاں دریا کے کنارے ایک خوبصورت گارڈن تھا۔ رنگین پھولوں کی کیاریاں، ہرے بھرے درخت، مخصوص گھاس سے اگائے ہوئے لان، فطرت کے اتھاہ حسن کی صورت میں ہمارے سامنے پھیلے ہوئے تھے۔ میں نے سوچا کہ کیا کوئی انسان ان پھولوں اور ان درختوں کو پیدا کر سکتا ہے۔ دل نے کہا کہ نہیں۔ یہ صرف خدا ہی کی شان ہے کہ وہ ایسی حسین دنیا کی تخلیق کر سکے۔
پھر میں نے سوچا کہ جنت تو اس گارڈن سے بے حساب گنا زیادہ خوبصورت اور با معنی ہوگی۔ پھر کون ہے جو جنت کو اس طرح بنا سکے جس طرح دنیا میں ایک شخص اپنے لئے گھر بنا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان نہ تو جنت کی تخلیق کر سکتا، اور نہ کسی بڑے سے بڑے انسان کا عمل جنت کی قیمت بن سکتا ہے۔ جنت کی ناقابل بیان حد تک حسین دنیا تو صرف رحمت ِخداوندی سے ملے گی جس کو ملے گی۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے : الا ان يتغمدنی الله برحمة منه وفضله۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی صرف جنت کا طالب بن سکتا ہے۔ وہ جنت کا خالق نہیں بن سکتا۔ جنت کوئی ایسی چیز نہیں کہ ایک آدمی اپنے اعمال کا پرس لے کر بازار آخرت میں پہنچے اور وہاں اپنی پسند کا ایک جنتی مکان اپنے لئے خرید لے۔ جنت اس آدمی کے لئے ہے جو حقیقی معنوں میں طالب جنت ہونے کا ثبوت دے دے۔ کیوں کہ خریدار جنت بننا یااپنے آپ کو مستحق جنت ثابت کرنا تو کسی انسان کے لئے ممکن ہی نہیں۔
فلارنس کی تین روزہ کانفرنس کے مختلف سشن مختلف مقامات پر ہوئے۔ ہم لوگ بار بار کسی نئی اور شاندار بلڈنگ میں لے جائے جاتے ۔ ہر عمارت میں وقت کے جدید ترین انتظامات موجود ہوتے اور جدید قسم کے ہال میں معیاری انتظام کے تحت کارروائی انجام پاتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues