Al-Risala · February 1997 · page 29

slavery or freedom, choose between the two

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۲۹

یہ تمام عمارتیں کسی نہ کسی چرچ کے ماتحت ادارے سے متعلق ہوتی تھیں۔ یہی حال ہندوستان سمیت ، ساری دنیا میں عیسائی حضرات کا ہے۔ انھوں نے ہر ملک میں اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ بنا رکھی ہے۔ کسی بھی ملک میں وہ سیاسی اقتدار کے براہ راست مالک نہیں ہیں۔ مگر غیر سیاسی شعبوں میں انھوں نے ہر وہ چیز حاصل کر لی ہے جو انھیں اپنے مذہبی وجود کے استحکام اور بقاء کے لئے درکار تھی۔

اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ یہی عیسائی قدیم زمانہ میں اس پوزیشن کے مالک نہ تھے۔ پھر آج وہ کیوں کر اس کے مالک بن گئے۔ میری سمجھ میں آیا کہ جدید نگری انقلاب نے انھیں اس کا موقع دیا ہے۔ قدیم زمانہ میں بادشاہی حکومت ہوا کرتی تھی۔ تمام چیزیں صرف ایک شخص کی ملکیت ہوتی تھیں، اور وہ بادشاہ کی شخصیت تھی۔ موجودہ زمانہ میں سیاسی افکار میں جو انقلاب آیا ہے اس نے سیاسی ادارہ کو گھٹا کر صرف انتظامیہ (administration) کے درجہ پر پہنچادیا ہے۔ نظم و قانون کے محدود دائرہ کے سوا تمام شعبے عوام کے لئے کھل گئے ہیں۔

عیسائی حضرات نے اسی جدید امکان سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انھوں نے انتظام ملکی کے معاملہ کو سیاسی لوگوں کے لئے چھوڑ دیا۔ اور اس کے سوا جو شعبے تھے ، ان میں خاموشی کے ساتھ جدوجہد کر کے ان پر قابض ہوگئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہر ملک میں ان کے شاندار ادارے قائم ہیں۔ ہمارے دانشور اس صورت حال کو چرچ کی سازش قرار دیتے ہیں۔ مگر یہ ہمارے دانشوروں کی سطحیت اور ان کی خطرناک بے خبری کا نتیجہ ہے نہ کہ فی الواقع کسی سازش اور مؤامرۃ کا نتیجہ۔

۲۵ اکتوبر کی صبح کو سشن میں میری نشست سے ملی ہوئی نشست پر ایک مسیحی پیشوا بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کالے رنگ کے نہایت شاندار لباس میں ملبوس تھے۔ ہاتھ میں ایک خوبصورت قسم کی کالی روزاری (تسبیح) تھی۔ خود بھی نہایت شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے گلے میں خوبصورت زنجیر کے ساتھ ایک سونے کی صلیب لٹک رہی تھی۔ اس پر ایک دبلا اور ستم رسیدہ انسان مصلوب حالت میں لیٹا ہوا دکھائی دیتا تھا جو ان کے عقیدہ کے مطابق ، حضرت مسیح

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page