Capienza 4 persone
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۰
کی شبیہ تھی۔ یہ ایک شاندار زندگی تھی جو انھوں نے مظلوم اور مصلوب مسیح کے نام پر حاصل کر رکھی تھی۔
آج کل ہر مذہب عالی شان تجارت کا ذریعہ بن گیا ہے۔ خود مسلمانوں میں بھی مذہبی لوگ مذہب کے نام پر شاندار زندگیاں حاصل کئے ہوئے ہیں۔
آئندہ آنے والے دور کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو پیشین گوئیاں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم، میں تمہارے بارے میں محتاجی سے نہیں ڈرتا۔ بلکہ اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تمہارے اوپر کشادہ کر دی جائے گی (فتح الباری ۶/ ۲۹۸ ) اس حدیث میں مجھے صنعتی دور کی پیشین گوئی نظر آتی ہے۔ یہ دراصل صنعتی دور کا ایک ظاہر ہ ہے کہ ہر طرف دولت کی فراوانی ہو گئی ہے۔ ہر آدمی کے گرد سامان دنیا کا ڈھیر لگ رہا ہے، اور اسی طرح مذہبی شخصیتوں کے گرد بھی۔ اس اعتبار سے یہ حدیث دلائل نبوت میں سے ایک دلیل ہے۔ میرے ہوٹل میں جو لفٹ لگی ہوئی ہے ، اس کے اندر لکھا ہوا ہے:
Capienza 4 persone
یہ اطالوی زبان میں وہی چیز ہے جس کو انگریزی میں capacity 4 persons لکھا جائے گا۔ اسی طرح قوموں کے اختلاط سے ہر زبان میں الفاظ کا تبادلہ ہوتا ہے۔ ہر زبان اپنے حسب حال تلفظ بدل کر دوسری زبان کے الفاظ کو اپنے اندر داخل کر لیتی ہے۔ یہ عمل ہر زبان میں ہمیشہ جاری رہا ہے اور آج بھی جاری ہے۔
یہی معاملہ کلچر کا بھی ہے۔ کلچر کوئی مطلق یا مقدس چیز نہیں۔ وہ قوموں کے اختلاط سے بنتا ہے۔ کلچر کو قانون کے ذریعہ ڈھالا نہیں جا سکتا۔ کلچر ہمیشہ تاریخی عمل کے دوران بنتا ہے۔ ہندستان میں جو لوگ "کلچرل نیشنلزم" کا نعرہ لگاتے ہیں وہ تاریخ کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ مگر اس دنیا میں کوئی اتna طاقت ور نہیں کہ وہ تاریخ کے اوپر حکمراں بن جائے۔ ۲۵ اکتوبر کی سہ پہر کو پروگرام کا وہ آخری جزء تھا جس کو کانفرنس کے منتظمین دعائے امن (Prayer for Peace) کہتے ہیں۔ سب سے پہلے ہر مذہب کے لوگ اپنی اپنی عبادت گاہوں میں پہنچائے گئے جہاں وہ مطلق کے مطابق عبادت کر کے امنِ عالم کے لئے دعا کریں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues