Capienza 4 persone
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۱
فلارنس کے مسلمانوں کی تعداد تقریباً تین ہزار ہے۔ پورے اٹلی میں مسلم شہریوں کی تعداد تقریباً چالیس ہزار ہے۔ ان میں سے بیشتر افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تین سال پہلے یہاں ایک مکان خرید کر اس کو مسجد کی صورت دی گئی ہے ۔ ہم لوگ اسی مسجد میں پہنچائے گئے۔ یہاں، ہم نے عصر اور مغرب کی نماز ادا کی۔ مرا کو کے شیخ علوی نے امامت کی۔ نماز کے بعد شیخ العلوی نے ممبر پر بیٹھ کر عربی میں ایک تقریر کی۔ تقریباً پچاس مسلمان اس میں موجود تھے۔ ہال کے کنارے دیوار سے لگ کر بہت سے مسیحی نوجوان کھڑے ہوئے ہمیں دیکھ رہے تھے۔ ان کی رعایت سے ایک صاحب نے تقریر کا ترجمہ اطالوی زبان میں کیا۔ شیخ العلوی نے کہا کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ ہمارا کام قوموں سے مسالمہ ہے نہ کہ محاربہ۔ مسلمان جب دوسری قوموں کو دشمن قرار دے کر ان سے لڑیں گے تو وہ بھی ان سے لڑیں گے۔ اس لئے مسلمانوں کو ٹکراؤ سے دور رہنا ہے۔ آخر میں تقریر کا خلاصہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اسلام کے داعی بنیں ( يجب على المسلمين ان يكونوا دعاة للاسلام) اس کے بعد ایک اور عالم نے مختصر تقریر کی۔ انھوں نے بھی ٹکراؤ کے بجائے پُر امن دعوت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان بنیادی طور پر سلامتی کے داعی ہیں (المسلمون هم اساس دعاة السلام)
مغرب کی نماز سے فراغت کے بعد پیدل سفر شروع ہوا۔ ہر مذہب کے لوگ آکر ملتے رہے ایک بڑے قافلہ کی صورت میں ہم لوگ ایک وسیع میدان میں لے جائے گئے۔ راستہ کے دونوں طرف مقامی لوگ بڑی تعداد میں کھڑے ہوئے تالیاں بجا رہے تھے۔ یہاں نہایت وسیع پنڈال بنایا گیا تھا۔ ٹی وی کے تین چینل مسلسل تمام کارروائیوں کی تصویر کشی اور صدا بندی کر رہے تھے۔ امن کے بارہ میں تقریر اور دعا کے بعد تمام مشارکین نے امن کی اپیل پر دستخط کئے ۔ آخر میں سب باہم مل مل کر ایک دوسرے کو امن کی تمنائیں پیش کرتے رہے۔
اس کارروائی کی تکمیل کے بعد تمام لوگ گاڑیوں پر کار دینال کی رہائش گاہ میں پہنچائے گئے۔ یہ رہائش گاہ ایک شاہی محل کی مانند تھی۔ یہاں شام کا کھانا اور آخری ملاقاتیں ہوئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues