Al-Risala · February 1997 · page 32

Capienza 4 persone

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۲

اس قسم کا سفر ممکن ہے۔ دل نے کہا کہ نہیں۔ حتیٰ کہ یہی کار اور یہی ڈرائیور بھی ہم ہندوستان میں اتنا تیز رفتار سفر نہیں کر سکتے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کی سڑکیں اور وہاں کی سڑکوں کا نظام اتنا اچھا نہیں جیسا کہ یورپ کے ملکوں میں پایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ زندگی کے سفر کا سارا معاملہ ڈرائیور کے اوپر منحصر ہوتا ہے۔ ڈرائیور جس طرح چاہتا ہے زندگی کی گاڑی کو چلاتا ہے۔ تم کسی نہ کسی طرح ڈرائیور کی سیٹ پر قبضہ کر لو، اور اس کے بعد زندگی کی گاڑی اسلام کی منزل کی طرف سفر کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ بہت سے سطحی لوگ اس نظریہ کی طرف دوڑ پڑے۔ انہوں نے پرشور جدوجہد کے ذریعہ سیاسی ڈرائیور کو دھکیل کر اسٹیئرنگ پر قبضہ کر لیا۔ یہ واقعہ کئی مسلم ملکوں میں ہوا۔ مثلاً مصر، ایران، پاکستان، افغانستان وغیرہ۔ مگر جلد ہی معلوم ہوا کہ ڈرائیور سمیت پوری گاڑی دلدل میں پھنس کر رہ گئی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسلم مفکرین اپنے ناقص فہم کی بنا پر اس راز کو نہ سمجھ سکے کہ گاڑی اور ڈرائیور دونوں اگر ہمیں حاصل ہو جائیں، تب بھی اصل مسئلہ سڑک اور سڑک کے نظام کا رہتا ہے۔ جب تک ایسا نہ ہو کہ سڑک بھی اچھی ہو اور سڑک کا نظام بھی، اس وقت تک منزل مقصود کی طرف کامیاب سفر ممکن نہیں۔

فلارنس سے روم آتے ہوئے ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میرے ہاتھ کی آٹو میٹک گھڑی (Seiko) ساڑھے نو بجے بند ہو گئی۔ کتنا ہی ہلایا مگر وہ دوبارہ نہیں چلی۔ روم پہنچا تو یہاں میرے قیام کا انتظام ہوٹل ہالی ڈے ان (Holiday Inn) میں تھا۔ یہاں میں کمرہ نمبر ۳۰۴ میں ٹھہرا۔ میں نے گھڑی ہاتھ سے نکال کر میز پر رکھ دی۔ اور اس احساس کے ساتھ سو گیا کہ ابھی دہلی پہنچنے کے لئے کئی دن باقی ہیں اور بقیہ سفر میں مجھے گھڑی کے بغیر رہنا پڑے گا۔ حالانکہ گھڑی کی مجھے ہر وقت ضرورت پیش آتی ہے۔ میں نے اکثر اپنے ساتھیوں سے کہا ہے کہ تین چیزیں میری زندگی کا لازمی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page