Al-Risala · February 1997 · page 33

Capienza 4 persone

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۳

حصہ ہیں ــــ گھڑی ، مسلم اور مسواک ۔

صبح اٹھا تو وقت کا کوئی اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے انٹر کام (in-house telephone) پر رپشن ڈیسک سے وقت دریافت کیا۔ انھوں نے کہا کہ چھ بجکر ۳۰ منٹ۔ میں نے مایوسانہ انداز میں اپنی گھڑی اٹھائی اور اس کی سوئی کو گھمانا شروع کیا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ سوئی جب ساڑھے چھ پر پہنچی تو وہ دوبارہ حسب معمول چلنے لگی۔

اس قسم کا ایک اور واقعہ سفر سے پہلے پیش آیا۔ سفر شروع کرنے سے چند دن پہلے میرے دانت میں سخت درد شروع ہو گیا۔ میں پریشان ہوا کہ اس حالت میں سفر کس طرح ہوگا۔ ۸ اکتوبر کو اللہ سے دعا کرتے ہوئے کروسین کی ایک گولی کھائی۔ عجیب بات ہے کہ اس کے بعد درد ختم ہو گیا اور اللہ کے فضل سے ابھی تک دوبارہ درد نہیں ابھرا۔ حالاں کہ کروسین کی ایک گولی کے بعد میں نے اس کے لئے کچھ اور نہیں کیا تھا۔

۲۶ اکتوبر کی صبح کو جب گھڑی دوبارہ چلنے لگی تو بے اختیار دل سے دعا نکلی کہ خدایا، میری خصوصی مدد فرما۔ تو میری بند گھڑی کو دوبارہ چلا دے۔ تو میرے ابھرے ہوئے درد کو دوبارہ اچھا کر دے۔ تو میرے مضمحل قوی کو دوبارہ تندرست جسم میں تبدیل کر دے۔ تو میرے بگڑے ہوئے معاملات کو ایک ایک کر کے درست فرمادے۔

نویں صدی عیسوی میں مسلمان روم کی سرحد تک پہنچ گئے تھے۔ اٹلی کے ایک حصہ میں عیسائیوں کے درمیان باہمی لڑائی شروع ہو گئی۔ اس وقت خود سسلی کے ایک گروہ نے تیونس کے مسلم حاکم سے مداخلت کی درخواست کی۔ چنانچہ ۷۸۲ء میں بنو اغلب کی فوج سسلی (صقلیہ) میں داخل ہوئی اور وہاں امن و امان قائم کیا۔ سسلی میں مسلمانوں کی حکومت تقریبا ڈھائی سو سال تک رہی۔

اس کے بعد مسلم فوج نے اٹلی کے جنوبی حصہ میں پیش قدمی کی۔ وہ کامیابی کے ساتھ روم کی دیواروں تک پہنچ گئی۔ مگر اسی درمیان سسلی میں مسلمان زوال کا شکار ہوئے۔ گیارہویں صدی کے نصف ثانی میں نارمن (Normans) نے مسلمانوں کو شکست دے کر سسلی پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد روم کی طرف ان کی پیش قدمی بھی ختم ہو گئی۔ مسلمانوں کی اس پسپائی کا سبب

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page