Al-Risala · February 1997 · page 34

Capienza 4 persone

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۴

نارمن کی فوجوں سے زیادہ خودان کی باہمی لڑائیاں تھیں۔ اسی زمانہ میں بنو اغلب اور مصر کے فاطمیوں میں خونریز جنگ چھڑ گئی۔ اس نے مسلم محاذ کو کمزور کر دیا۔

روم کے ہوٹل کے کمرہ میں پڑھنے کی مختلف چیزیں تھیں۔ انھیں میں سے ایک ہوٹل کا میگزین (Weekender Plus) تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہالی ڈے ان کی شاخیں ساری دنیا میں ہیں اور ہر جگہ آپ ہمارے ہوٹل میں آرام کے ساتھ ٹھہر سکتے ہیں۔

اس میگزین میں رنگین تصویروں کے ساتھ مختلف ملکوں کے خوبصورت مناظر دکھائے گئے تھے جو سیاحوں کے لئے کشش کا باعث ہوتے ہیں۔ اس میں بلجیم، فرانس، چیکوسلاویکیا، جرمنی، اسپین، برطانیہ، مالٹا، اٹلی، پولینڈ وغیرہ کے ساتھ مڈل ایسٹ اور مراکو اور ترکی کا تذکرہ بھی چھپا ہوا تھا۔ اس میں استانبول کی تاریخی مسجد اور بحرین اور عرب امارات کی جدید وضع کی مسجدوں کی تصویریں بھی موجود تھیں۔ مگر ۶۰ صفحہ کے اس پرچہ میں ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کا نام تک بھی کہیں موجود نہ تھا۔

میں نے سوچا کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے جن نادان لیڈروں نے ملک کے بٹوارہ کی تحریک چلائی، اس کے بجائے وہ اس پورے خطہ کے لئے وفاقی نظام کی تحریک چلاتے تو ہماری تاریخ بالکل دوسری ہوتی۔ اس کے بعد ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ سب مل مل ایک عظیم ملک بناتے۔ اور یہ وفاقی ملک عالمی نقشہ پر اتنی اہمیت اختیار کرتا کہ کسی کے لئے ممکن نہ ہوتا کہ وہ اس کو نظر انداز کر سکے۔

اٹلی میں اسی سے ملتا جلتا واقعہ پیش آیا ہے۔ پہلے اٹلی بہت سی آزاد اور خود مختار ریاستوں کا ایک کمزور ملک تھا۔ اس کے بعد یہاں کچھ مدبر پیدا ہوئے جنھوں نے یہاں اتحاد کا اندولن چلایا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج اٹلی کی صورت میں ایک بڑا ملک عالمی نقشہ پر اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔

۲۶اکتوبر کو روم میں آنکھ کے ایک ڈاکٹر سے ملاقات کا وقت طے تھا۔ مجھے اپنی عینک کے سلسلہ میں ان سے مشورہ کرنا تھا۔ شہر کا بیشتر حصہ طے کرکے تقریباً پون گھنٹہ میں ہم لوگ تین بجے ڈاکٹر کے یہاں پہنچے۔ اس وقت میں حسب معمول ایک عینک لگائے ہوئے تھا۔ جب میں ان

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page