We always show a partial aspect of life.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۵
کے دفتر میں داخل ہوا انہوں نے فورا میری آنکھ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ فوری طور پر میں سمجھ نہ سکا کہ وہ کس لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ میں سمجھا کہ شاید وہ معانقہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اصل حقیقت یہ تھی کہ انھوں نے فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ میری عینک اتار کر اس کو فوراً کمپیوٹرائزڈ مشین میں رکھ کر اس کا نمبر چیک کیا۔ موجودہ عینک کا نمبر معلوم کرنے کے بعد مختلف مشینوں کے ذریعہ میری آنکھ کا معائنہ کرتے رہے۔ وغیرہ۔
یورپ میں عام طور پر یہی طریقہ رائج ہے، لوگ نہ اپنا وقت ضائع کرتے اور نہ آپ کا وقت۔ وہ ٹھیک مقرر وقت پر ملتے ہیں اور کسی رسمی تمہید کے بغیر فی الفور اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔
۲۶ اکتوبر کی شام کو ہالی ڈے ان میں کھانے کی میز پر ڈاکٹر پابا سے ملاقات ہوئی: Dr Antonell Paba (Tel. 39-6-5592504)
انھوں نے اٹلی اور یورپ کی زندگی کے بارے میں بہت سی باتیں بتائیں۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ کارکن عورتوں کی تعداد اٹلی میں (اور دوسرے ملکوں میں بھی) بہت بڑھ گئی ہے۔ یہ عورتیں بچے پیدا کرنا پسند نہیں کرتیں ۔ چنانچہ ہمارے یہاں پیدائش کی شرح دن بدن گھٹ رہی ہے۔ خاص طور پر اٹلی میں پیدائش کی شرح پورے یورپ میں سب سے کم ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہماری موجودہ سوسائٹی میں نوجوان کم ہو گئے ہیں اور بوڑھے لوگ زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح انھوں نے کہا کہ اب کتا بیں پڑھنے کا رواج بہت کم ہو گیا ہے۔ زیادہ تر لوگ اب ٹی وی دیکھتے ہیں۔ " ورلڈ نیوز" کے عنوان کے تحت جب وہ خبریں سنتے ہیں تو وہ غلط طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ساری دنیا کے بارہ میں واقفیت حاصل کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ صرف بعض خبریں ہوتی ہیں نہ کہ کل خبریں۔ مجھ سے سی این این کے ایک آدمی نے خود کہا کہ ہم زندگی کا صرف جزئی حصہ دکھاتے ہیں:
We always show a partial aspect of life.
اس طرح ہمارا میڈیا ایک ایسی نسل بنا رہا ہے جو سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور جان رہا ہے۔ حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ بہت کم دیکھتا ہے اور بہت کم جانتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues