Al-Risala · February 1997 · page 38

We have to learn to live with problems.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۸

بڑا حصہ انھوں نے امام نووی کی صحبت میں گزارا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اسلوبِ تحریر پر نووی کا اسلوب غالب آگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر سوانح نگار ان کو النووی الصغیر کہتے ہیں۔

"ادب الخطیب" اصلاً ایک روایتی انداز کی کتاب ہے۔ جس میں خطیب جمعہ کے بارہ میں ضروری آداب اور شرعی احکام کو بیان کیا گیا ہے۔ ہے۔ (الّفتُہ فى آداب الخطیب وما يتعلق به من الاحكام الشرعية) اس ضمن میں خطباء کو نصیحت کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ جمعہ کے خطبہ میں ترغیب و ترہیب کے لئے ضعیف اور موضوع حدیثوں کو بیان کرنے سے سخت پر ہیز کرنا چاہئے ( وليحذر كل الحذر من ایراد الاحادیث الموضوعة و الضعيفة لقصد الترغيب ... والترهيب۔ صفحہ ٩٦) اور یہ کہ خطبہ میں مسجع عبارتوں ، پیچیدہ نحوی ترکیبوں اور نامانوس الفاظ کا پر تکلف استعمال ایک ناپسندیدہ بات ہے ( ويكره تكلف السجع فيها وتحري دقائق الاعراب ووحشى اللغۃ صفحہ ۸۲) عجیب بات ہے کہ کئی صدیوں بعد آج بھی جمعہ کے خطبے ان "مکر وہات" سے پاک نہ ہو سکے۔

خطبہ جمعہ کے بعد عموماً سامعین اور تمام اہلِ اسلام کے حق میں دعائے خیر کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں ابوالحسن بن عطار کہتے ہیں کہ اس موقع پر حکام وقت کے لئے بھی صلاح و توفیق کی دعا کرنی چاہئے خواہ وہ ظالم اور شریعت کے خلاف عمل کرنے والے کیوں نہ ہوں۔ ( ويستحب الدعاء للحکام ، و ان كانو اجائرین مخالفين ، ينبغي ان يدعى لهم بالصلاح والتوفيق والتسديد صفحہ ۱۰۰)

آجکل مسلمانوں کے درمیان ایک نظریہ بہت مقبول ہے۔ وہ یہ کہ انسان اس زمین پر خدا کا خلیفہ ہے۔ خاص طور پر اسلام کے سیاسی شارحین اس کی زبردست حمایت کرتے ہیں کیوں کہ ان کے بقول انسان کی یہی حیثیت یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ دنیا میں انسان کا مقصد تخلیق یہ ہے کہ وہ حکومت الہیہ کے قیام کے لئے جدوجہد کرے۔ مگر خود اس نظریہ کے حق میں اب تک قرآن و سنت سے کوئی براہ راست دلیل نہیں دی جا سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page