Al-Risala · February 1997 · page 39

We have to learn to live with problems.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۳۹

ابتداً یہ نظریہ عباسی دور میں وضع ہوا۔ اس وقت محدود طور پر صرف مسلم حکمراں کو خلیفۃ اللہ کہا جاتا تھا۔ بعد کو اس میں یہاں تک توسع کیا گیا کہ ہر انسان کو خدا کا خلیفہ کہا جانے لگا۔ تاہم محقق علماء نے تقریبا ہر زمانہ میں اس بے اصل نظریہ کی مخالفت کی ہے۔ اور یہ اعلان کیا ہے کہ مسلم حکمراں اور اسی طرح عام انسان کو خدا کا خلیفہ کہنا مطلق جائز نہیں۔ (اما العلماء فقالوا: لا يجوز اطلاق خليفة الله على القائم بامور المومنين - صفہ (۱۰)، علامہ بغوی نے شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ خلیفہ کا مطلب ہے ۔ بعد میں آنے والا۔ انسان یا حکمراں کو خلیفہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے پیش رو کے بعد آتا ہے اور اس کا قائم مقام ہوتا ہے۔ (ويسمى خليفة لانه خلف الماضي قبله وقام مقامه ۔ بحوالہ ادب الخطیب صفحہ (۱۰۸) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے خلیفۃ اللہ ہونے کا نظریہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے۔ اس کی بنیاد نہ کتاب وسنت میں ہے نہ علما اسلف کے مسلک میں۔

ڈاکٹر محمد السلیمانی نے " ادب الخطیب کی تحقیق میں زبر دست محنت کی ہے۔ کتاب کے شروع میں انھوں نے ایک مقدمہ شامل کیا ہے جس میں مستند تاریخی حوالوں سے کتاب اور صاحب کتاب کا مفصل تعارف کرایا ہے۔ اس کے علاوہ تقریبا ہر صفحہ پر نہایت مفید حواشی (تعلیقات) لکھی ہیں۔ جن کی وجہ سے کتاب کی افادیت دوگنی ہوگئی ہے۔ مصنف کی ایک رائے یہ تھی کہ جمعہ کا خطبہ صرف عربی زبان میں ہونا چاہئے۔ سریانی ، فارسی ، عبرانی یا کسی دوسری عجمی زبان میں خطبہ دینا درست نہیں۔ (فلو خطب بالعجمية : الفارسية او العبرانية او السريانية او غيرها من اللغات لم تصح صفحہ (۱۰۳) اس تبصرہ کرتے ہوئے فاضل محقق نے علامہ نووی کے حوالے سے لکھا ہے کہ عربی میں خطبہ دینا مستحب ہے مگر وہ لازمی شرط نہیں کیونکہ خطبہ کا اصل مقصد وعظ و نصیحت ہے اور یہ مقصد ہر زبان کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے۔ (مستحب ولا يشترط، لان المقصود الوعظ ، وهو حاصل بكل اللغات - صفحہ (۱۰۴) اپنی موجودہ شکل میں یہ کتاب بلا شبہ روایتی اسلامی لٹریچر د مکتبہ التراث الاسلامی) میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page