Al-Risala · February 1997 · page 41

Christians protest over Rome mosque

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۱

ایک خوبصورت تختی پر لکھا ہوا ہے کہ اس کا افتتاح ۲۱۔ جون ۱۹۹۵ کو ہوا ۔ جس علاقہ میں یہ مرکز واقع ہے وہ روم کا نہایت عمدہ علاقہ ہے۔ دور تک سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے۔ مسجد کا کیمپس غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ اس کے اندرونی حصہ (ہال) کو میں نے ناپا تو وہ چوڑائی میں ۷۰ قدم اور لمبائی میں ۹۰ قدم تھا۔

مسجد کے اندر پہنچ کر میں نے دورکعت نماز پڑھی اور دعائیں کیں۔ باہر نکلا تو ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ وہ پاکستان سے تعلق رکھتے تھے، اور ان کا نام کمانڈر صفدر جمیل تھا۔ وہ فرنچ نیوی میں کام کرتے ہیں۔ مسجد کے اندر اور باہر غیر معمولی پہرہ تھا۔ کافی پولیس دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ کاش مسلمان ان سے کہہ سکتے کہ تم لوگ جاؤ یہاں مسجد کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔

برمنگھم سے نکلنے والے ایک ماہنامہ صراط مستقیم میں اس کی خبر کی سرخی یہ تھی : مرکز عیسائیت میں منارہ اسلام ۔ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نوائے وقت (۲۲ اگست ۱۹۹۵) میں اس کی بابت ایک مضمون تھا جس کا عنوان یہ تھا: ’’عیسائیت کے قلب میں اسلام کی فتح مضمون میں شکایت کی گئی تھی کہ روم کے اسلامی مرکز کی تعمیر پر مغربی اخبارات اور اٹلی کے بعض حلقوں نے ’’منفی اور شر انگیز پروپیگنڈہ‘‘ کی صورت میں اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اس کو مغرب کے لئے ایک خطرہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اسلامی مرکز اسلامی انتہا پسندوں نے بنایا ہے، اور یہ کہ ’’نئی تعمیر ہونے والی مسجد میں جب اذان دی جائے تو اس کی آواز باہر نہیں سنائی دینا چاہئے اور یہ کہ آئندہ وہ روم میں کوئی دوسری مسجد تعمیر نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ ایک مسلم انگریزی مضمون کی سرخی یہ تھی :

Christians protest over Rome mosque

بعض عیسائی حلقہ کا یہ رد عمل دراصل خود ان پر جوش مسلمانوں کے عمل کا نتیجہ ہے جو روم میں مسجد یا اسلامی مرکز کے قیام کو ’’عیسائیت کے قلب میں اسلام کی فتح‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔ اس زبان میں قومی بڑائی کا انداز جھلک رہا ہے۔ جب کہ اسلام تواضع کا مذہب ہے یہ فطرت کا اصول ہے کہ برتری کے جواب میں برتری پیدا ہوتی ہے اور تواضع کے جواب میں تواضع۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page