Al-Risala · February 1997 · page 42

Christians protest over Rome mosque

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۲

اسی انداز صحافت کی قیمت مسلمان بوسنیا میں ادا کر رہے ہیں۔ مگر بار بار کے تلخ تجربات کے باوجود انھوں نے اپنا یہ انداز ابھی تک تبدیل نہیں کیا۔

اس مرکز کا افتتاح ایک پر رونق تقریب میں سعودی عرب کے شاہ فہد کے بھائی امیر سلمان بن عبدالعزیز اور اٹلی کے صدر (Oscar Luigi Scaltaro) نے مشترکہ طور پر کیا۔ افتتاحی تقریب میں اٹلی کے کم و بیش تمام شہروں سے آئے ہوئے مسلمانوں کے علاوہ مختلف اسلامی ملکوں کے سفراء، سعودی عرب کے وزیر برائے دینی امور ڈاکٹر عبداللہ ترکی، رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر احمد محمد علی، مجلس شوریٰ سعودی عرب کے نائب رئیس ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف نے شرکت کی۔ اس تقریب کے تمام پروگرام کو نہ صرف اٹلی کے ٹیلی ویژن نے براہ راست نشر کیا بلکہ امریکی سی این این، ایم بی سی اور این بی سی، نے بھی سٹیلائٹ کے ذریعے ساری دنیا میں اس پروگرام کی تفصیلات نشر کیں۔

یورپ کے اس عظیم اسلامی مرکز کی تعمیر تیس ہزار مربع میٹر زمین پر عمل میں لائی گئی ہے۔ جس کی مسجد کے اندرونی اور بیرونی ہال میں بیک وقت چار ہزار مسلمان نماز ادا کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں دس کلاسوں پر مشتمل ایک دینی مدرسہ، ایک وسیع کانفرنس ہال، اسلامی میوزیم مرکز کے دفاتر، امام مسجد اور دیگر اسٹاف کے رہائشی فلیٹ شامل ہیں۔ اس مسجد کو شاہراہ عام سے ملانے کے لئے سعودی عرب نے پندرہ ملین ریال کے خرچ پر ایک خصوصی ذیلی سڑک بھی تعمیر کر کے حکومت کے حوالے کر دی ہے۔ روم کی مسجد اور اسلامی مرکز کے بارہ میں ایک سبق آموز بات یہ ہے کہ عیسائیوں کے ایک گروپ کی طرف سے اس کی سخت مخالفت کی گئی تھی۔ تاہم اٹلی کی حکومت نے اس کی تعمیر کی باقاعدہ منظوری دے دی۔ آخر میں انتہا پسندوں نے یہ شرط لگائی کہ مسجد کے مینار کی بلندی مقامی گرجاوں کی بلندی سے کم رکھی جائے۔ انھوں نے کہا کہ روم میں چرچ سے اونچی مسجد بنانے سے چرچ کا تقدس مجروح ہوگا اور اس سے عیسائیوں کے دینی جذبات مجروح ہوں گے۔ اگرچہ اس مسجد کی پشت پر سعودی عرب سمیت بیشتر عرب ممالک کی حمایت تھی۔ اس کے باوجود عیسائیوں کی اس شرط کو مان لیا گیا۔ چنانچہ مسجد کی وسعت کے اعتبار سے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page