Christians protest over Rome mosque
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۳
اس کا مینار نسبتاً بہت کم اونچا ہے۔
مسلمان اس حقیقت پسندی کو عام طور پر یورپ اور امریکہ میں اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اسی لئے وہ وہاں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر دوسرے ملکوں میں بھی یہی حقیقت پسندی اختیار کر لی جائے تو یہاں بھی شاندار اسلامی زندگی کی تعمیر کے تمام مواقع ان کے لئے کھل جائیں گے۔
روم کی مسجد اور اسلامی مرکز کو دیکھنے کے بعد وہاں سے ہم لوگ سیدھے ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوئے۔ روم ایئرپورٹ پر میں نے وضو کر کے عصر کی نماز پڑھی۔ اٹھ کر چند قدم چلا تھا کہ ایک صاحب میرے رفیق ڈاکٹر لیونارڈو کے پاس کھڑے ہوئے نظر آئے ۔ میں ان کو پہچانتا نہ تھا۔ غالباً وہ اٹلی سے تعلق رکھتے تھے۔ ممکن ہے انہوں نے مجھ کو کانفرنس میں دیکھا ہو۔ مگر میں ان سے واقف نہ تھا۔ میں نماز پڑھ کر اٹھا تو انھوں نے کسی تمہید کے بغیر میری طرف دیکھتے ہوئے انگریزی میں کہا :
You are the only religious man all over the world. مذکورہ آدمی نے جب یہ بات کہی تو وہ اور ڈاکٹر لیونارڈو قریب قریب کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے سمجھا کہ وہ شاید ڈاکٹر لیونارڈو کے ساتھی ہیں۔ مذکورہ جملہ کہنے کے بعد ہی وہ وہاں سے چلے گئے۔ میں نے ڈاکٹر لیونارڈو سے پوچھا کہ یہ کون صاحب تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں بھی ان کو نہیں جانتا۔ مذکورہ جملہ کے سوا کوئی اور بات انھوں نے مجھ سے بھی نہیں کہی۔ روم ایئرپورٹ پر میرے ساتھ وہی قصہ پیش آیا جو اکثر میرے ساتھ پیش آتا ہے۔ مزاج کے اعتبار سے میں اپنے آپ کو آخری حد تک "غیر اہم" انسان سمجھتا ہوں۔ اسی احساس کے تحت یہاں میں نے عام باتھ روم میں وضو کیا اور کھلی زمین پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ لی۔ تھوڑی دیر بعد ایک صاحب آئے۔ انھوں نے مجھ کو لے جا کر وی آئی پی لاؤنج میں بٹھا دیا۔ انھوں نے نہ صرف خاطر تواضع کا انتظام کیا بلکہ میرا ٹکٹ اور پاسپورٹ لے کر ساری ضروری کارروائی مکمل کر دی۔
اگر میں پہلے سے جانتا تو لاؤنج میں پہنچ کر نماز پڑھتا۔ کیوں کہ یہاں ہر طرح کی عمدہ سہولت
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues