Al-Risala · February 1997 · page 44

Do not step in before final positioning.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۴

موجود تھی۔ مگر شاید اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ اس کے لئے دلالین پر سجدہ نہ کروں، بلکہ اس کے بجائے کھلی زمین پر سجدہ کروں۔ ایئرپورٹ پر جن صاحب نے تمام انتظامات کئے وہ ایئر انڈیا کے پی آر او مسٹر کے جی دیش مکھ تھے :

K.G. Deshmukh, Rome (Tel. 65010741,. 5663483)

ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا طریقہ کیا یورپ کی سوسائٹی میں قابل قبول ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ میں نے کہا کیوں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں کہا جاتا ہے کہ اس طرح نوجوانوں کو زندگی کا تجربہ حاصل ہوگا۔ میں نے کہا کہ تجربہ تو نہیں حاصل ہوگا۔ البتہ یہ نوجوانوں میں سطعیت اور نفس پرستی پیدا کرے گا۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ ہاں آپ کی بات درست ہے اور عملاً آج یہی ہو رہا ہے۔ روم سے ایئر انڈیا کی فلائٹ 81 کے ذریعہ روانگی ہوئی ۔ ایئر پورٹ سے نکل کر جہاز کے قریب پہنچا تو اس کی مخصوص سیڑھی کے پہلے زینہ پر لکھا ہوا تھا — سیڑھی جب تک اپنی آخری پوزیشن تک نہ پہنچ جائے اس پر قدم نہ رکھیں :

Do not step in before final positioning.

اس دنیا میں ہر صحیح اصول یونیورسل اصول ہوتا ہے۔ یہ بھی بلاشبہ ایک یونیورسل اصول ہے۔ ہوائی جہاز کی سیڑھی اس کے دروازہ کے ٹھیک سامنے پہنچ کر اس سے جوڑ دی جاتی ہے۔ اگر اس سے پہلے کوئی شخص سیڑھی پر چڑھنے لگے تو وہ ایک خطرناک کام ہوگا۔ اسی طرح زندگی کے معاملات میں ابتدائی تیاری کا عمل جب تک آخری تکمیل تک نہ پہنچ جائے، کوئی اقدام کرنا سخت مہلک ہے۔ اس قسم کا نیم پختہ اقدام تباہی کی طرف لے جاتا ہے نہ کہ کامیابی کی طرف۔ جہاز اپنے وقت پر چلنا شروع ہوا۔ مگر کچھ دور جا کر رک گیا۔ اس کے بعد آواز آئی: میں آپ کا کیپٹن بول رہا ہوں ۔ ابھی ہماری پرواز میں دس منٹ کی دیر ہوگی۔ کیوں کہ ترتیب میں ہم نمبر ۴ پر ہیں :

We are number 4 in the sequence.

یعنی تین جہاز جب اڑ چکے ہوں گے تب ہم کو رن وے ملے گا۔ میں نے سوچا کہ اگر ہمارا پائلٹ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page