Al-Risala · February 1997 · page 45

We are number 4 in the sequence.

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۵

اس ترتیب کی پروا نہ کرے ۔ وہ کہے کہ میں ترتیب میں نمبر نہیں بن سکتا۔ میں تو نمبر ایک ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ اپنا جہاز رن وے پر دوڑا دے تو کیا ہوگا ۔ وہ خود بھی تباہ ہوگا اور دوسرے جہازوں کے لیے بھی تباہی کا سبب بن جائے گا ۔

جہاز میں کچھ مخصوص سامان ڈیوٹی کے بغیر اصل قیمت پر ملتا ہے ۔ ڈیوٹی فری کی گاڑی مسافروں کے درمیان گھومتی ہوئی میرے پاس پہنچی تو اس کے آدمی نے کہا : " آپ کو ڈیوٹی فری شاپ سے کچھ خرید لینا ہے "۔ اس قسم کی غلطیاں ہر آدمی اپنی غیر مادری زبان میں کرتا ہے ۔ بہت ہی کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو غیر مادری زبان میں اس قسم کی غلطیاں نہ کریں۔ ہندوستان میں لوگ انگریزی زبان بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر بیشتر ہندوستانیوں کی زبان میں اسی قسم کی غلطیاں ہوتی ہیں جس کی ایک مثال مذکورہ اردو جملہ میں نظر آتی ہے ۔ روم میں ایک شخص نے مجھ سے ایک انگریزی لطیفہ بیان کیا۔ اس نے کہا کہ انگریزی زبان برطانیہ میں پیدا ہوئی، امریکہ میں اس نے ترقی کی۔ افریقہ پہنچ کر وہ بیمار ہوئی اور انڈیا میں وہ مرگئی :

English language was born in Great Britain, grew in USA, became sick in Africa, and died in India. میں نے کہا کہ اس قسم کے لطیفوں میں ہمیشہ مبالغہ ہوتا ہے۔ اور یہ لطیفہ بھی یقیناً مبالغہ سے خالی نہیں ۔

روم سے دہلی آتے ہوئے راستہ میں انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹ্রিبیون کا شمارہ ۲۷اکتوبر ۱۹۹۵ دیکھا۔ اس کے صفحہ اول کی پہلی خبر بوسنیا کے بارہ میں تھی۔ یہ بوسنیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی دردناک کہانی تھی جو صفحہ اول سے شروع ہوکر دوبارہ صفحہ ۸ پر ختم ہوئی تھی ۔ اس میں جو باتیں تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ سرب فوجیں بوسنیا کے مسلمانوں کو پکڑ کر لے جاتی ہیں ۔ ان کو وحشیانہ طور پر مارتی پیٹتی ہیں اور بہت سے لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیتی ہیں ۔ ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ایک گانا گائیں جس کا ترجمہ یہ ہے کہ —— یہ ملک کس کا ہے۔ یہ سربوں کا ملک ہے۔ وہ ہمیشہ سے سربوں کا تھا اور ہمیشہ انھیں کا رہے گا :

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page