We are number 4 in the sequence.
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۴۶
Whose country is this? This is Serbian land. It always was, and it always will be. بوسنیا کے جو شیلے مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے حالات کا لحاظ کئے بغیر آزادی کا اعلان کر دیا۔ مزید یہ کہ اس یکطرفہ اعلان آزادی میں انھوں نے اپنے پڑوسی کرواتیوں کو ساتھ نہیں لیا۔ بوسنیا میں اب مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل اسی جذباتی سیاست کے نتائج ہیں۔
جہازوں میں خاص طور پر اوپر کے درجہ میں، شراب نہایت فیاضی کے ساتھ فراہم کی جاتی ہے۔ ایک آدمی اپنے ہاتھ میں ایک بوتل لے کر آیا۔ اس نے کہا؛ آپ کو شراب پینا ہے؟ مجھے اس آدمی کو جواب دینا عجیب سالگا۔ میں نے سوچا کہ کاش مسلمانوں کی تصویر ساری دنیا میں یہ ہوتی کہ وہ شراب نہیں پیتے ۔ اور جہاز کا عملہ بتائے بغیر پیشگی طور پر محض صورت دیکھ کر جان لیتا کہ یہ مسلمان ہے۔ یہ شراب نہیں پئے گا۔ مگر بدقسمتی سے آج مسلمان کی یہ تصویر دنیا میں نہیں۔
میری سیٹ کے سامنے دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ دونوں بڑے تاجر تھے اور آپس میں تجارتی گفت گو کر رہے تھے۔ کبھی کبھی کوئی لفظ میرے کان میں بھی آجاتا تھا۔ مثلاً اس طرح کے الفاظ :
1 million dollars, 60 million dollars, 100 million dollars. کبھی یہ لفظ سنائی دیا کہ اس میں بہت فائدہ ہے۔ میں نے سوچا کہ آج ہر آدمی صرف ایک چیز کی طرف دوڑ رہا ہے، اور وہ دولت ہے۔ دولت ہی آج کے انسان کا حقیقی خدا ہے۔ ہندو بد نام ہیں کہ انھوں نے دولت کو “لکشمی “ کے نام پر خدا بنالیا ہے اور اس کو پوجتے ہیں۔ مگر آج کون ہے جو دولت کا پرستار نہ ہو۔ حتیٰ کہ مسلمان بھی اس معاملہ میں دوسروں سے پیچھے نہیں۔
میرے دائیں طرف کی سیٹ پر ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ دیر تک ہم لوگوں میں کوئی کلام نہیں ہوا۔ آخر انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں۔ کہاں رہتے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues