جنگ اسلام میں
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶
جنگ اسلام میں
بعض "مفکرین اسلام" کا کہنا ہے کہ اسلام میں جنگ کی دو قسمیں ہیں ــــــ مصلحانہ جنگ اور مدافعانہ جنگ۔ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ اس نظریہ کے لئے قرآن اور حدیث میں کوئی دلیل موجود نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں صرف ایک جنگ ہے اور وہ مدافعانہ جنگ ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، مصلحانہ تحریک ہوتی ہے، مصلحانہ جنگ نہیں ہوتی۔ مصلحانہ جنگ قرآن وسنت کے پورے ذخیرے میں ایک اجنبی چیز ہے۔ اس کا ماخذ شاعروں اور خطیبوں اور انشا پردازوں کی طبع آزمائیاں ہیں نہ کہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔
مشہور حدیث کے مطابق ہر قسم کی اصلاح کا مدار قلب پر ہے۔ حدیث میں کہا گیا ہے کہ جس طرح جسمانی نظام میں قلب کی اصلاح سے پورے جسم کی اصلاح ہوتی ہے، وہی معاملہ دینی نظام کا بھی ہے۔ انسان کو اصلاح یافتہ بنانے کی صورت یہ ہے کہ قلب یا ذہن کی سطح پر اس کے اندر اصلاح لائی جائے۔
اس حدیث کے مطابق مصلحانہ تحریک (نہ کہ مصلحانہ جنگ) کا اصول یہ ہے کہ ساری طاقت انسان کے فکر وشعور کو بدلنے پر صرف کی جائے ــــــ دلائل کے ذریعہ آدمی کی سوچ کو بدلنا ۔ جنت اور جہنم کی باتوں کے ذریعہ اس کے قلب میں نرمی پیدا کرنا ، خدا کی نشانیوں کی یاد دہانی کے ذریعہ اس کی ربانی فطرت کو جگانا۔ یہ ہے انسانی اصلاح کا طریقہ۔ اس کو دوسرے لفظوں میں مصلحانہ تحریک بھی کہا جاسکتا ہے۔
جنگ کا مقصد ہمیشہ کسی خارجی رکاوٹ کو دور کرنا ہوتا ہے نہ کہ انسان کے اندر باطنی کیفیت پیدا کرنا۔ باطنی کیفیت یا باطنی شعور کا ذریعہ صرف وعظ و تلقین ہے، اس کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں جنگ کی صرف ایک قسم ہے اور وہ دفاع (Defence) ہے۔ اگر کوئی گروہ اہل اسلام کے خلاف جارحیت کرے تو حسب استطاعت اس سے مقابلہ کیا جائے گا خواہ یہ مقابلہ کھلی جنگ کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ عام حالات میں اسلام کا طریقہ پر امن دعوت کا طریقہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues