ایک مطالعہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۱۷
ہے ، اور جارحیت کی صورت میں مسلح مقابلہ کا طریقہ ۔
ایک مطالعہ
صلح حدیبیہ (۶ ھ) کے بعد جب حالات معتدل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے باہر مختلف علاقوں میں تبلیغی دستے روانہ فرمائے۔ انھیں میں سے ایک تبلیغی دستہ وہ تھا جو مدینہ کے شمال میں شام کی سرحد سے ملے ہوئے علاقہ کی طرف بھیجا گیا۔ یہاں عیسائی قبائل آباد تھے اور وہ رومی در باز نظینی حکومت کے ماتحت تھے۔
اس تبلیغی وفد میں پندرہ آدمی تھے اور ان کے سردار کعب بن عمیر الغفاری تھے۔ وہ شام کے قریب ذات اطلاح میں پہنچے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک مقام پر کافی لوگ جمع ہیں۔ انھوں نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر انھوں نے ان کی پکار پر لبیک نہیں کہا۔ بلکہ ان پر تیر برسانے لگے (فدعوهم الى الاسلام فلم يستجيبوالهم ورشقوهم بالنبل) البداية والنهاية ۳/ ۲۴۱ اس یک طرفہ حملہ میں بارہ مسلمان شہید ہو گئے ۔ صرف کعب بن عمیر الغفاری زخمی حالت میں مدینہ واپس آئے۔ شامی سرحد پر بسنے والے ان عیسائیوں کا حملہ ، بالواسطہ طور پر رومی سلطنت کا حملہ تھا۔ اس طرح رومی سلطنت نے سب سے پہلے اسلام کے خلاف اپنی جارحیت کا آغاز کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے الحارث بن عمیر الازدی کو ایک دعوتی مکتوب لے کر حاکم بصرہ کی طرف روانہ کیا۔ جب وہ موتہ (شام) میں پہنچے تو ان کی ملاقات شرحبیل ابن عمرو الغسانی سے ہوئی۔ اس نے ان سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو ۔ انھوں نے کہا کہ حاکم بصرہ کے پاس۔ اس نے کہا، شاید تم محمد کے فرستادہ ہو۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ اس کے بعد اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا اور انھوں نے الحارث بن عمیرؓ کو تلوار مار کر قتل کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے یہ قتل حاکم بصری کے اشارہ پر کیا تھا (الرسول فی المدینة (۲۲۹ شرحبیل بن عمرو الغسانی عیسائی تھا اور وہ رومی حکومت کا ایک افسر تھا۔ اس کا یہ فعل بین اقوامى روایت کے مطابق، اقدام جنگ کے ہم معنی تھا۔ اس لئے آپ نے تین ہزار افراد کا ایک لشکر تیار کیا اور جمادی الاولیٰ ۸ھ میں اس کو مؤتہ (شام) کی طرف روانہ فرمایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues