ایک مطالعہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸
شرحبیل کو جب مسلم لشکر کی روانگی کا علم ہوا تو اس نے ایک لاکھ آدمیوں کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے جمع کیا۔ اسی کے ساتھ خود شاہ روم ہرقل ایک لاکھ فوج لے کر شرحبیل کی مدد کے لئے بلقاء کے مقام پر پہنچا۔ تین ہزار اور دو لاکھ کا تناسب بہت زیادہ غیر مساوی تھا۔ یہ مقابلہ فیصلہ کن نہ بن سکا، تامہم مسلمانوں نے اتنی بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا کہ رومیوں کے اوپر مسلمانوں کی فوجی صلاحیت کا رعب قائم ہو گیا۔
مستشرق واشنگٹن ارونگ (Washington Irving) نے پیغمبر اسلام کی زندگی پر ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے۔ اس کا اقتباس ڈاکٹر علی حسنی الخربوطلی نے اپنی کتاب ”الرسول فی المدینہ“ میں نقل کیا ہے۔ واشنگٹن ارونگ نے لکھا ہے کہ عرب میں اسلام کی اشاعت سے جب عرب کے بکھرے ہوئے قبائل متحد ہوگئے تو شہنشاہ ہرقل کو یہ عرب اتحاد اپنے لئے خطرہ محسوس ہوا۔ اس نے طے کیا کہ ایک بڑا لشکر تیار کرے اور اپنے اس ”امکانی دشمن“ پر حملہ کر کے اس کو کچل ڈالے۔ چنانچہ اس نے عرب کی سرحد پر اپنی فوجیں جمع کر نا شروع کر دیا۔ (صفحہ ۲۳۲ )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ابر اطراف کے حالات معلوم کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ جب آپ کو معلوم ہوا کہ ہرقل نے سرحد عرب پر فوجیں جمع کی ہیں تاکہ عرب پر حملہ کرکے اسلام کا زور توڑدے تو آپ نے فوراً جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد وہ ہم پیش آئی جس کو غزوہ تبوک کہا جاتا ہے۔
آپ نے مسلسل وعظ و تلقین کے ذریعہ مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا کیا کہ زیا دہ سے زیادہ لوگ اس مہم کے لئے نکلیں۔ چنانچہ سخت حالات کے باوجود ۳۰ ہزار آدمیوں کا لشکر اس مہم کے لئے تیار ہو گیا۔ اس سلسلہ میں جو روایتیں آئی ہیں، ان کا ایک جزہ یہ ہے:
کـان رسول الله صلى الله عليه وسلـم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کے لئے قل ما يخرج في غزوة الاكنى عنها الا نکلتے تو زیادہ تر آپ اشارہ اور کنایہ سے کام لیتے ما كان من غزوۃ تبوك فانه بينها تھے ۔ مگر غزوہ تبوک میں آپ نے اس سے مختلف طریقہ للناس ... فامرهم بالجهاد و اختیار فرمایا۔ اس کی بابت آپ نے صاف طور پر لوگوں اخبرهم انه يريد الــروم کے سامنے اعلان کیا۔ آپ نے انھیں جہاد کا حکم
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues