ایک مطالعہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۱۹
(البدایۃ والنھایۃ ۳/۵)
دیا اور ان کو اس بات کی خبر دی کہ آپ کا قصد روم کی طرف ہے۔
غزوہ تبوک اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ اس کے بارہ میں بہت سی تفصیلات سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں آئی ہیں۔ اس واقعہ کا مطالعہ کیجئے تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ جنگ کے بارہ میں نہایت اہم اصول سامنے آتے ہیں۔ ان میں سے دو اصول یہ ہیں: ۱۔ ایک یہ کہ تبوک کی مہم کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فوجی اقدام بطورِ دفاع تھا۔ وہ جارحانہ اقدام کے طور پر نہ تھا۔ اس سے معلوم ہواا کہ اسلام میں جارحانہ جنگ نہیں ہے۔ اسلام میں جنگی اقدام صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ بطور دفاع ایسا اقدام کرنا ضروری ہو گیا ہو۔ ۲۔ دوسری بات یہ ہے کہ دفاعی اقدام میں بھی ٹکر اولاً لازمی طور پر ضروری نہیں ہے۔ اگر اس کا امکان ہو کہ طاقت کے مظاہرہ سے یہ فائدہ ہو سکتا ہے کہ دشمن پیچھے ہٹ جائے اور اپنے جارحانہ ارادہ سے باز آجائے تو اپنے اقدام کو ’’ مظاہرہ‘‘ کی حد میں رکھا جائے گا، اس کو لازماً جنگی ٹکراؤ تک نہیں لے جایا جائے گا۔
یہی مصلحت تھی جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عام عادت کے خلاف غزوہ تبوک کی تیاری پورے اعلان و اظہار کے ساتھ کی۔ اور روانگی میں بھی اخفاء کے بجائے اظہار کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ آپ کے سرحدِ شام پہنچنے سے پہلے رومیوں تک یہ خبر پہنچ گئی کہ پیغمبرِ اسلام ۳۰ ہزار جان بازوں کے ساتھ تمہاری طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس مظاہرہ کا متوقع فائدہ حاصل ہوا۔ رومی حکمران نے مرعوب ہو کر اپنی فوجوں کو پیچھے لوٹنے کا حکم دے دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رومی فوجوں کی پسپائی کا علم ہوا تو آپ بھی مزید اقدام سے رک گئے (الرسول فی المدینہ، صفحہ ۲۳۴)
اسلام کی عام پالیسی یہی ہے کہ حتی الامکان جنگ سے اعراض کیا جائے۔ یہ پالیسی اسلام کے اصل مقصد و مدعا کے عین مطابق ہے۔ کیوں کہ اسلام کا مقصد لوگوں کو جہنم کے راستہ سے ہٹا کر جنت کے راستہ پر ڈالنا ہے نہ یہ کہ وہ جاہلیت کی جس زندگی میں ہیں، وہیں مار کر انہیں ختم کر دیا جائے۔ ایک تاجر کی نگاہ آدمی کی جیب پر ہوتی ہے۔ ایک جنگ باز کی نگاہ آدمی کی گردن پر۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues