ایک مطالعہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۲۰
کے برعکس اسلام کی نگاہ آدمی کے دل پر ہواتی ہے۔ اسلام کا مقصد لوگوں کے دلوں کو بدلنا ہے تاکہ وہ اپنے رب کی رحمتوں میں حصہ پاسکیں۔
کوئی شخص خواہ دشمن ہو یا غیر مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ ان سب سے پہلے وہ انسان ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ ہم سی " انسان" تک پہنچیں اور اس کے دل کے دروازہ پر دستک دیں۔ کیا عجب کہ اس کی فطری صلاحیت جاگ اٹھے اور وہ دین حق کے دائرہ میں داخل ہو جائے۔
اس کی مثال خود رومیوں کے قصہ میں موجود ہے۔ عین اس زمانہ میں جب کہ رومیوں سے کشمکش چل رہی تھی ، اسی زمانہ میں رومیوں کی اعلیٰ صف کے ایک آدمی نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ فروة بن عمرو الجذامی (م ۱۲ ) تھے۔ وہ ایک عیسائی تھے اور بنو النافرة کے اوپر رومیوں کی طرف سے حاکم تھے۔ بنو النافرة کے لوگ خلیج عقبہ اور ینبع کے درمیان رہتے تھے۔ جب اسلام کا ظہور ہو اور اس کی خبریں عرب میں پھیلیں تو فروة اس سے متاثر ہو گئے۔ آخر کار انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ فروة الجذامی نے اپنے قبول اسلام کی اطلاع ایک قاصد کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجی۔ اور ہدیہ کے طور پر ایک سفید خچر بھی آپ کے لئے روانہ کیا۔ رومی حکمران کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے فروة کو اپنے پاس بلا کر انھیں قید میں ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ فروة کو فلسطین میں عفراء نامی ایک چشمہ کے پاس لے گئے اور تلوار مار کر انھیں قتل کر دیا۔ رومی جب فروہ کو قتل کے مقام پر لائے تو فروة نے یہ شعر کہا :
بَلِّغْ سَرَاةَ المُسْلِمِينَ بِأَنَّنِی سِلْمٌ لِرَبِّي أَعْظَمِي وَمَقَامِی مسلمانوں کے سردار کو یہ خبر پہنچا دو کہ میری ہڈیاں اور میرا اوپر وجود میرے رب کے لئے ہے (سيرۃ ابن ہشام ۴/ ۳۶۲) فروة بن عمرو اگر چہ قتل کر دیے گئے ، مگر ایک اصول پر قائم رہنے کی بنا پر قتل کیا جانا کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ ایسا آدمی اپنے پورے وجود سے اس اصول کی صداقت کی گواہی دیتا ہے جس کی خاطر اس نے اپنی جان دی ہے۔ جہاں لوگوں نے اپنے خود ساختہ نظریات کو بازار کی سیاہی سے لکھ رکھا ہے، وہاں وہ اپنے نظریہ کی صداقت کو اپنے خون کی سرخی سے تحریر کرتا ہے۔ ایسی موت ہزاروں لوگوں کے لئے زندگی کا سبب ہوتی ہے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ دور اول کے مسلمانوں کی اس قسم کی قربانیوں نے ایک عیسائی علاقہ کو ابدی طور پر ایک مسلم علاقہ بنا دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues