Al-Risala · March 1998 · page 21

موافق میدان

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱

موافق میدان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے ۔ ہجرت کے چھٹے سال کا واقعہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ گئے ہیں اور وہاں عمرہ ادا کر رہے ہیں۔ رسول کا خواب وحی ہوتا ہے۔ چنانچہ ذوالقعدہ سنہ کے آغاز میں آپ عمرہ کے ارادہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوگئے، آپ کے علاوہ چودہ سو اصحاب بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ عمرہ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ چنانچہ آپ کے ساتھ قربانی کے ستر اونٹ بھی تھے جن کی گردنوں میں ہدی کی علامت کے طور پر قلادے پڑے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھیوں کے پاس صرف ایک تلوار میان میں تھی جو قدیم قبائلی دور میں ہر مسافر کا معمول سمجھی جاتی تھی۔ ذوالحلیفہ (موجودہ بئر علی )کے مقام پر پہنچ کر پورے قافلہ نے حسب قاعدہ احرام باندھ لیا اور لبيك اللّهمّ لبيك کی پکار کے ساتھ مکہ( بیت اللہ ) کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ایک حرام مہینہ تھا۔ تمام ظاہری علامات کے مطابق یہ عمرہ ادا کرنے والوں کا قافلہ تھا۔ عرب کی پوری تاریخ میں ایسے کسی قافلہ کو کبھی روکا نہیں گیا تھا۔ مگر قریش (اہل مکہ ) نے اس وقت مسلمانوں کے خلاف جنگ اور عداوت کی جو مہم چلا رکھی تھی اس نے اس سادہ سے واقعہ میں سیاسی اور قومی پہلو پیدا کر دیا۔ قریش نے اس کو اپنی غیرت وحمیت کے خلاف سمجھا کہ ان کے دشمنوں کا قافلہ بغیر کسی رکاوٹ کے مکہ میں داخل ہو اور عمرہ کرکے شان کے ساتھ واپس چلا جائے۔

چنانچہ قریش نے آپ کو روکنے کے لئے طرح طرح کی کوششیں شروع کر دیں۔ سب سے پہلے خالد بن ولید کی سرداری میں ۲۰۰ سواروں کا دستہ روانہ ہوا اور مکہ سے چل کر ذی طویٰ کے مقام پر پہنچ گیا۔ یہ مقام مکہ اور مدینہ کے راستہ میں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تھے کہ آپ کے مخبر نے یہ اطلاع دی۔ آپ نے خالد کی مڈبھیڑ سے بچنے کے لئے فوراً اپنا راستہ بدل دیا۔ سیدھے اور عام راستہ سے چلنے کے بجائے آپ پہاڑی راستہ سے گھوم کر آگے نکل گئے اور حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ تاہم قریش نے چھیڑ چھاڑ جاری رکھی۔ آپ کا ایک آدمی جو ایک

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page