موافق میدان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲
پہاڑی پر چڑھ کر حالات کا مشاہدہ کر رہا تھا اس کو تیر مار کر ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ ایک بار جب کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے ، قریش کے تقریبا پچاس آدمی آئے اور پتھر برسانا شروع کر دیا۔ اسی طرح ایک بار قریش کے کچھ لوگ رات کے وقت آئے اور اچانک آپ کے خیموں پر حملہ کر دیا۔ وغیرہ اس قسم کے واقعات ہوتے رہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ آپ صرف یہ کہتے رہے کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں بلکہ عمرہ کے لئے آئے ہیں۔ حتیٰ آپ نے حضرت عثمان کو اپنا نمائندہ بنا کر مکہ والوں کے پاس بھیجا کہ وہ سردار ان قریش سے کہیں کہ زیارت کعبہ کے سوا ہمارا کوئی اور مقصد نہیں ہے ۔ ہم طواف اور قربانی کے بعد مدینہ واپس چلے جائیں گے۔ مگر قریش نے ضد میں حضرت عثمان کو روک لیا ۔ یہاں تک کہ غلط طور پر یہ خبر مشہور ہوگئی کہ حضرت عثمان قتل کر دئے گئے۔ اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کیا کہ فوراً مکہ پر چڑھائی کر دیں۔ بلکہ قریش کے سامنے اظہار ِعزیمت کے لئے صرف جہاد کی بیعت لی اور بدستور حدیبیہ میں مقیم رہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس پر بیعت لی تھی کہ اگر مقابلہ کی نوبت آئی تو ہم نہیں بھاگیں گے (ببایعنا علی ان لا نفر ، سیرت ابن ہشام ، جلد ۳، صفحه ۳۷۴) اس درمیان میں مکہ کے کچھ امن پسند لوگوں نے صلح کی بات چیت شروع کر دی۔ مثلاً بنو خزاعہ کا سردار بدیل بن ورقاء، احابیش کا سردار حلیس بن علقمہ ، بنو ثقیف کا سردار عروہ بن مسعود ثقفی ، وغیرہ۔ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا حال دیکھنے کے بعد مکہ جا کر قریش کو بتایا کہ یہ لوگ صرف زیارت کعبہ کے لئے آئے ہیں۔ اس لئے انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ وہ عمرہ کے ارکان ادا کرنے کے بعد خود ہی واپس چلے جائیں گے۔
کعبہ کی زیارت سے کسی کو روکنا عرب روایات کے سراسر خلاف تھا۔ اس لئے ضد اور عداوت کے باوجود قریش کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ وہ کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر قسم کے اشتعال کے باوجود خاموش رہے۔ آپ کے اس پر امن رویہ نے مزید یہ کیا کہ قریش سے ہر قسم کی جارحیت کا جواز چھین لیا۔ بالآخر اپنی بالاتری قائم رکھنے کی خاطر انہوں نے یہ چاہا کہ مسلمانوں کو اس پر راضی کریں کہ وہ اس سال مدینہ واپس چلے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues