Al-Risala · March 1998 · page 23

موافق میدان

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۲۳

جائیں اور اگلے سال مکہ آ کر عمرہ ادا کریں۔ اس مقصد کے لئے انھوں نے سہیل بن عمرو کی قیادت میں اپنا ًیک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سہیل“ کو دیکھا تو اس سے اچھا فال لیا اور فرمایا کہ اب معاملہ سہل ہو گیا (قد سهل لكم من امرکم)، آپ نے کہا کہ اس آدمی کو بات چیت کے لئے بھیجنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریش نے اب صلح کا ارادہ کر لیا ہے (قَدْ اَرَادَ الْقَوْمَ الصَّلْحَ حِیْنَ بَعَثُوْا ھَذَا الرَّجُلَ)، جب صلح کی بات چیت شروع ہوئی تو سہیل بن عمرو نے بے حد ضد کا مظاہرہ کیا۔ تاہم آپ اس کی ہر ضد کو مانتے چلے گئے اور تقریباً یک طرفہ طور پر قریش سے معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کی تفصیلی دفعات سیرت کی کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

معاہدہ کی بات چیت کے دوران قریش نے بار بار ضد اور عداوت کا مظاہرہ کیا۔ مگر آپ جوابی انداز اختیار کرنے کے بجائے ان کی ہر بات مانتے رہے اور اس کو نظر انداز کرتے چلے گئے ۔ ابتداءً یہ تجویز پیش ہوئی کہ ایک فریق کا کوئی آدمی دوسرے فریق کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس کو فریق اول کی طرف واپس کر دے۔ سہیل نے کہا کہ ہمارا آدمی آپ کے پاس آئے تو آپ کو اسے واپس کرنا ہو گا۔ مگر آپ کا آدمی ہمارے پاس ہو تو ہم اس کو واپس نہیں کریں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک طرفہ شرط کو منظور کر لیا۔ معاہدہ کی کتابت حضرت علی کر رہے تھے۔ آپ نے مضمون املا کرا کرتے ہوئے فرمایا: لکھو بسم الله الرحمن الرحيم، سہیل بن عمرو نے کہا نہیں۔ بلکہ ہمارے طریقے کے مطابق یوں لکھو باسمك اللھم ۔ مسلمانوں نے یہ سن کر کہا خدا کی قسم، ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کے سوا اور کچھ نہ لکھیں گے (والله لا نكتبها الا بسم الله الرحمن الرحيم)، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بحث نہیں کی بلکہ وہی الفاظ لکھوا دئے جو سہیل بن عمرو اور اس کے ساتھی چاہتے تھے۔ اس کے بعد آپ نے اگلا جملہ ارشاد فرمایا : ھذا ما قضیٰ عليه محمد رسول اللہ ( یہ وہ ہے جس کا فیصلہ محمد اللہ کے رسول نے کیا)، سہیل نے دوبارہ کہا : خدا کی قسم اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے۔ بلکہ یوں لکھئے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page