Al-Risala · March 1998 · page 24

موافق میدان

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴

کہ محمد بن عبداللہ ۔ آپ نے حضرت علی سمیت تمام صحابہ کی ناگواری کے باوجود حکم دیا کہ محمد رسول اللہ کاٹ دو اور محمد بن عبد اللہ لکھو۔ واللہ انی لرسول الله وان كذبتمونى ۔ اكتب محمد بن عبد اللہ ، معاہدہ کی دفعات طے ہونے کے بعد اس کی کتابت جاری تھی کہ ابو جندل بن سہیل بن عمرو آگئے ۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے مگر مکہ والوں نے ان کو بیڑیوں میں باندھ رکھا تھا۔ انھوں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کے قریب حدیبیہ میں موجود ہیں تو وہ کسی طرح بھاگ کر یہاں پہنچے ۔ ان کے پاؤں میں لوہے کی بیڑیاں تھیں اور جسم پر مار پیٹ کا نشان تھا۔ انھوں نے چلا کر کہا کہ مجھے اس ظالمانہ قید سے بچائیے ۔ سہیل بن عمرو نے کہا کہ نہیں۔ یہ معاہدہ کے ایفاء کاپہلا موقع ہے اور آپ پر لازم ہے کہ ابو جندل کو ہمارے حوالے کریں۔ ابو جندل نے چلا کر کہا کہ کیا میں ظالم کافروں کی طرف لوٹا دیا جاؤں گا حالاں کہ میں اسلام قبول کر چکا ہوں ۔ یہ بڑا جذباتی لمحہ تھا۔ تمام صحابہ بگڑ گئے ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جندل کو صبر کی تلقین کر کے انھیں واپس کر دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ کر کے واپس روانہ ہوئے۔ آپ کراع الغمیم کے مقام پر پہنچے تھے کہ فرشتہ خدا کی طرف سے سورہ فتح لے کر آپ کے پاس آگیا۔ اس کو پا کر آپ اتنا مسرور ہوئے کہ آپ نے فرمایا : آج مجھ پر ایسی سورہ نازل ہوئی ہے جو مجھ کو دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے (نزل على البارحة سورة هي أحب إلي من الدنيا ومافيها)، اس سورہ کی ابتدائی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے :

بے شک ہم نے تم کو فتح مبین دے دی تاکہ اللہ تمہارے اگلے اور پچھلے گناہوں کو بخش دے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے ۔ اور تم کو صراط مستقیم دکھائے ۔ اور تم کو زبر دست نصرت عطا کرے ۔ وہی ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکینت اتاری تاکہ ان کے ایمان میں ایک اور ایمان کا اضافہ ہو۔ اور زمین و آسمان کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں ۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ تاکہ اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کی برائیاں ان سے دور کر دے۔ اور اللہ کے نزدیک یہی بڑی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page