Al-Risala · March 1998 · page 25

موافق میدان

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵

کامیابی ہے۔ اور تاکہ اللہ سزادے منافق مردوں اور منافق عورتوں، مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو اللہ کے باب میں برے گمان رکھتے ہیں۔ برائی کی گردش انھیں پر ہے۔ اللہ کا غضب ان پر ہو اور اللہ نے ان پر لعنت کی اور اس نے ان کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے (الفتح ۱-۶) "اور خدا تم کو صراط مستقیم دکھائے۔ اس آیت کا تعلق واضح طور پر اسی صلح کے واقعہ سے ہے۔ یہاں نہ عقائد کا ذکر ہے اور نہ عبادات کا۔ بلکہ تمام تر ذکر صرف صلح حدیبیہ کا ہے۔ اس لئے اس سیاق میں اس کا مطلب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ صلح حدیبیہ کا واقعہ اس لئے پیش آیا تا کہ اجتماعی مقابلہ میں حریف کے اوپر فتح پانے کی صراط مستقیم تمہیں بتائی جائے ۔ موجودہ دنیا میں جب اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ ہو تو اس میں حقیقی فتح پانے کا خدائی راستہ صرف وہ ہے جو صلح حدیبیہ کی مثال کی صورت میں ہمارے اوپر کھولا گیا ہے۔

اس آیت میں اتمام نعمت سے مراد حق کے ساتھ غلبہ کو جمع کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق اپنی کامل صورت میں پہلے بھی ملا ہوا تھا۔ البتہ اس حق کے ساتھ دنیوی غلبہ ابھی تک جمع نہیں ہوا تھا۔ صلح حدیبیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ملک میں غلبہ کا راستہ کھول دیا۔ "اور تاکہ خدا تم کو زبر دست نصرت عطا کرے"۔ یہ آیت موجودہ دنیا میں خدا کے قانون نصرت کو بتاتی ہے۔ اہل ایمان اگر چاہتے ہیں کہ خدا کی مدد ان کا ساتھ دے تو اس کا مستحق بننے کے لئے انھیں اس صلاحیت کا ثبوت دینا ہو گا کہ وہ اس کام میں اپنی محنتیں صرف کریں جو صلح اور امن کے حالات میں انجام دیا جاتا ہے نہ کہ وہ کام جو جنگ کے حالات میں انجام دیا جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ سے پہلے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جنگی حالت قائم تھی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مسلمانوں کے سامنے یہ نشانہ نہ تھا کہ وہ غیر مسلموں کی گردن کاٹیں۔ صلح کے بعد نشانہ بدل گیا۔ اب ان کا کام یہ قرار پایا کہ وہ غیر مسلموں کے دلوں میں اسلام کا پیغام داخل کریں۔ گویا خدا کی نصرت کا مستحق بننے کا راز غیر مسلموں کو اپنا حریف بنانا نہیں ہے بلکہ اس کار از یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اپنا مدعو بنایا جائے۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کے دلوں پر جو سکینت نازل ہوئی وہ کیا تھی ۔ وہ یہ تھی کہ وہ اس پر راضی ہو گئے کہ وہ متعلقہ معاملہ میں رد عمل کا رویہ اختیار نہ کریں بلکہ رد عمل کی نفسیات سے بلند ہو کر مثبت رویہ کا ثبوت دیں۔ انہوں نے اشتعال کے موقع پر بے اشتعالی کا طریقہ اختیار کیا۔ فریق ثانی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page