موافق میدان
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۲۷
در میان میدان مقابلہ کو بدل دیا جائے۔ وہ مقابلہ جو اب تک جنگ کے میدان میں ہورہا تھا اس کو وہاں سے ہٹا کر دعوت کے میدان میں لایا جائے۔
بعثت نبوی سے لے کر صلح حدیبیہ تک تقریباً ۲۰ سال کی مدت ہے۔ اس طویل مدت میں اتنے لوگ مسلمان نہ ہوئے جتنے صلح حدیبیہ کے بعد صرف دو سال میں ہوئے۔ حدیبیہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف چودہ سو مسلمان تھے۔ جب کہ حدیبیہ کے بعد دو سال سے بھی کم مدت میں آپ نے مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھ دس ہزار مسلمان شامل تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہجرت کے بعد مسلسل جنگوں کی وجہ سے اشاعت اسلام کا کام ٹھپ پڑ گیا تھا۔ دس سالہ نا جنگ معاہدہ کے بعد جب فضا معتدل ہوئی تو اشاعت اسلام کا کام پوری تیزی سے ہونے لگا۔ گویا کہ جنگی صورت حال کی بنا پر اسلام کا زیادہ طاقت ورہتھیار غیر استعمال شدہ حالت میں پڑا ہوا تھا۔ حدیبیہ کے نا جنگ معاہدہ نے اس طاقت ور ہتھیار کو قابل استعمال بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔
حدیبیہ کا معاملہ فتح مبین اس لئے تھا کہ اس نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کے سب سے طاقت ورہتھیار کو اس کے حق میں استعمال کیا جائے۔ حدیبیہ کی اسپرٹ یہ ہے کہ فریق ثانی کی ضد اور مخالفت کی وجہ سے اگر ٹکراؤ کی فضا پیدا ہو جائے تو یک طرفہ صبر کے ذریعہ ٹکراؤ کی فضا کو ختم کیا جائے تاکہ اسلامی دعوت کی راہ ہموار ہوسکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues