فہم دین
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۲۸
فہم دین
۲۶ دسمبر ۱۹۹۴ء کو فلسطینی عرب ہمارے دفتر (نئی دہلی) میں آئے۔ ان کے قائد شیخ کمال الخطیب تھے جو فلسطین کی اسلامک موومنٹ کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔ بقیہ نوجوان تھے جو دہلی کی مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پورے ملک میں زیرِ تعلیم فلسطینی نوجوانوں کا سالانہ مخیم (کیمپ) بنگلور میں اسی سال دسمبر میں ہوا۔ یہ لوگ اس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے ان میں سے ایک استاد جہاد محمد تھے وہ ریسرچ کے تحت دہلی میں مقیم ہیں۔ ان کا ٹیلی فون نمبر یہ ہے : ۶۸۴۶۹۶۴ یہ سب نوجوان انتہا پسند فلسطینی گروہ سے تعلق رکھتے تھے جو کہ تشدد کے ذریعہ فلسطین کے مسئلہ کو حل کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ہمیں کچھ نصیحت کیجیے۔ میں نے کہا کہ نہ صرف فلسطین، بلکہ کشمیر، الجزائر اور اس قسم کے دوسرے تمام مقامات کے لیے میری ایک ہی نصیحت ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ تمام لوگ تشدد کے طریقہ کو مکمل طور پر ختم کر دیں اور صرف امن کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی تحریک چلائیں۔ وہ کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کو لے کر متشددانہ طریقہ نہ اختیار کریں۔
میں نے کہا کہ آپ کو میرا یہ مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی روشنی میں ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ کی یہ روایت آئی ہے کہ : ما خُيِّرَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بين أمرين الا اخذ (یسر ھما (فتح الباری ۶۵۳/۶) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی معاملہ میں دو میں سے ایک طریقہ کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان طریقہ کا انتخاب فرماتے۔ میں نے کہا کہ آپ اور آپ جیسے دوسرے لوگ آزادی وطن یا جہاد اسلام کے نام سے جو تحریک چلا رہے ہیں اس میں باعتبارِ اسلوب آپ کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ ایک پرتشدد طریقہ اور دوسرا پر امن طریقہ۔ بروقت آپ لوگوں نے اپنی تحریک کے لیے پرتشدد طریقہ کو اختیار کر رکھا ہے۔ مذکورہ روایت کے مطابق یہ سنت رسول کے خلاف ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس معاملہ میں آپ اختیار ایسر (اختيار اسھل) کے طریقہ کو اپنائیں۔ یعنی تشدد کے طریقہ کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues