امتحان گاه
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵
امتحان گاه
ایک طالب علم جب امتحان ہال میں داخل ہوتا ہے تو وہاں وہ اپنے آپ کو ایک وسیع کمرہ میں پاتا ہے۔ اس کے لیے وہاں پہلے سے آرام دہ کرسی اور میز بچھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے چاروں طرف گملے ہوتے ہیں جن میں خوب صورت پھول سجے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وہاں خادم بھی ہوتے ہیں جو اس کے اشارہ پر فوراً اُس کی ضرورت پوری کریں۔ ہال کی کھڑکیاں چاروں طرف سرسبز و شاداب پارک کا منظر دکھا رہی ہوتی ہیں۔ وغیرہ۔
مگر طالب علم ان میں سے کسی چیز سے بھی لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔ بظاہر خوشی اور لذت کے ماحول میں بھی وہ خوشی اور لذت سے محروم رہتا ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ اس وقت طالب کے ذہن پر صرف ایک بات کا غلبہ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ میں امتحان گاہ میں ہوں۔ یہاں میں کسی چیز کا مالک نہیں یہ یہاں جو کچھ ہے وہ کسی اور کا ہے۔ مجھ کو یہاں صرف اس لیے داخلہ ملا ہے کہ میں امتحان کے پرچے میں دیے ہوئے سوالات کو حل کروں۔ مزید یہ کہ میرے پاس صرف محدود وقت ہے، اس محدود وقت کا واحد استعمال یہ ہے کہ میں اس کو امتحان میں لگاؤں۔ اس کے سوا دوسری ہر مشغولیت میرے لیے وقت کا ضیاع ہے نہ کہ وقت کا استعمال۔
ٹھیک یہی معاملہ انسان کا موجودہ دنیا کی نسبت سے ہے۔ یہ دنیا ایک وسیع امتحان گاہ ہے۔ اس دنیا میں جو آدمی بھی آتا ہے وہ امتحان دینے کے لیے آتا ہے، اس بات کا امتحان کہ کسی انسان نے خدا کا سچا اعتراف کیا یا نہیں، انسان نے دوسرے لوگوں کے معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا یا وہ اس میں کوتاہ ثابت ہوا۔
دنیا کی یہ امتحانی نوعیت اگر آدمی کے اوپر پوری طرح واضح ہو تو یہاں اس کا حال وہی ہو جائے گا جو کسی امتحان ہال میں طالب علم کا ہوتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے ناممکن ہو جائے گا کہ وہ بے فکری کے ساتھ زندگی گزارے۔ وہ خوشیوں اور لذتوں میں گم ہو جائے۔ ایسے آدمی کے لیے دنیا ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی جگہ ہوگی نہ کہ راحتیں سمیٹنے کی جگہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues