Al-Risala · January 1998 · page 16

حکمت دعوت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶

حکمت دعوت

ولادیمیر اول (Vladimir) ۹۵۶ میں پیدا ہوا۔ اور ۱۰۱۵ میں اس کی وفات ہوئی۔ روس کا پہلا عیسائی بادشاہ ہے۔ وہ ابتدا بُت پرست تھا اس نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس کے بعد اس نے روسی باشندوں کو عیسائی بنانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ تمام بت دریاؤں میں پھینک دیے گئے ۔

گیارہویں صدی عیسوی کے ایک مسیحی راہب یعقوب (Jacob) نے اس سلسلے میں جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ بہت سبق آموز ہیں۔ اس نے لکھا ہے کہ شاہ روس ولادیمیر کا یقین اپنے آبائی مذہب (بت پرستی) سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد اس نے تحقیق کے لیے یہودی، عیسائی اور اسلامی علماء کو بلایا اور ہر ایک سے اس کے مذہب کے بارے میں مفصل گفت گو کی انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا تذکرہ ۱۹۸۴ء ولادیمیر)

یعقوب کے بیان کے مطابق، یہودی علماء نے کہا کہ ہمارا خدا ہم سے ناراض ہے، اس لیے ہم کو نہیں معلوم کہ ہمارا مقام زمین میں ہے یا آسمان میں۔ ولادیمیر نے کہا کہ مجھے ایسے مذہب کی ضرورت نہیں ۔

مسلم علماء کی زبان سے اسلام کی تعلیمات کو سن کر اس کو اسلام سے دل چسپی پیدا ہوئی حتی کہ وہ اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ مگر اس نے کہا کہ میں شراب کا بہت زیادہ عادی ہوں ۔ میں اور سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں مگر میں شراب کو نہیں چھوڑ سکتا۔ مسلم علماء نے کہا کہ ہمارے مذہب میں شراب حرام ہے۔ اس لیے اگر تم اسلام قبول کرتے ہو تو شراب بھی تم کو لازماً چھوڑنی پڑے گی۔ اس نے علماء سے بہت زیادہ کہا کہ شراب کے معاملے میں اسے رخصت دے دی جائے مگر علماء اس پر راضی نہیں ہوئے ۔ چنانچہ بات ختم ہو گئی اور شاہ روس اسلام قبول کرنے سے باز رہا۔

اس کے بعد شاہ روس ولادیمیر نے عیسائی مذہب کے لوگوں سے گفتگو کی۔ عیسائی عالموں نے زیادہ حکمت اور دانش مندی کا ثبوت دیا۔ وہ اگرچہ اپنے مذہب اور عقائد کے معاملے میں بادشاہ کو زیادہ مطمئن نہ کر سکے تھے، مگر انھوں نے شراب کے معاملے میں بادشاہ کو رخصت دے دی۔ مسیحیت پر

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page