Al-Risala · March 1998 · page 29

فہم دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۲۹

چھوڑ کر پر امن جدوجہد کے اصول پر اپنی تحریک چلائیں۔

ایک فلسطینی نوجوان نے کہا کہ صحیح بخاری کی اس روایت میں آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ مالَمَ یکُن اِثْمًا (جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو)۔ اس وقت فلسطین اور دوسرے اس قسم کے مقامات پر حکمراں طبقہ لوگوں کو قتل کر رہا ہے اور ان کی اقتصادیات کو تباہ کر رہا ہے پھر اس سے بڑا اثم اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس اثم عظیم کی موجودگی میں کیسے اختیار ایسر کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ خود حدیث کے الفاظ کے مطابق اس اثم کی موجودگی میں ہمیں امن کے سہل طریقہ کو چھوڑ کر تشدد کے مشکل طریقہ کو اختیار کرنا چاہیے۔

میں نے کہا کہ مالَمَ یکُن اِثْمًا کا یہ مطلب نہیں۔ پوری حدیث اس طرح ہے کہ مالَمَ یکُن اِثْمًا، فان کان اِثْمًا کان ابعد الناس منہ (جب تک کہ وہ اثم نہ ہو۔ اور اگر وہ اثم ہو تو آپ اس سے بہت زیادہ دور رہتے تھے) یہاں وہ سے مراد فریق ثانی کی روش نہیں ہے۔ بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا طریقہ ہے۔ اس کا تعلق فعل غیر سے نہیں ہے بلکہ فعل رسول سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی صورت حال کے مقابلہ کے لیے جب آپ کو دو میں سے ایک طریقہ کا انتخاب کرنا ہو تو آپ ہمیشہ آسان طریقہ کے ذریعہ سے فریق ثانی کا مقابلہ کرنے کی کوشش فرماتے۔ بشرطیکہ اختیار کیا جانے والا یہ طریقہ اثم نہ ہو۔

اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ ایک شخص کو پیاس لگی ہوئی ہے، اپنی پیاس بجھانے کے لیے اس کے سامنے دو صورتیں ہیں۔ ایک طرف وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس شراب کی بوتل رکھی ہوئی ہے۔ دوسری طرف اس کے علم میں آتا ہے کہ اس علاقہ میں پانی کا ایک چشمہ ہے مگر وہ پہاڑ کے اوپر واقع ہے۔ اس مثال میں شراب پی کر اپنی پیاس بجھا نا بظاہر آسان ہے اور چل کر پانی تک پہنچنا بظاہر مشکل۔ مگر یہاں شریعت کا حکم ہو گا کہ وہ آدمی آسان ہونے کے باوجود شراب سے اپنی پیاس نہ بجھائے بلکہ سفر کر کے چشمہ تک پہنچے اور اس کے پانی سے اپنی پیاس بجھائے۔

ابن حجر العسقلانی نے حدیث کے مذکورہ حصہ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page