Al-Risala · March 1998 · page 30

فہم دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۳۰

تک آسان طریقہ کسی اہم کا مقتضی نہ ہو اور جب وہ طریقہ اہم کا مقتضی ہو تو آپ مشکل طریقہ کا انتخاب فرماتے ۔ سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری عمر نبوت میں اس اصول کو اختیار فرمایا کہ جہاں آسان طریقہ اور مشکل طریقہ، دو میں سے ایک کا انتخاب کرنے کا موقع ہو تو آپ نے ہمیشہ آسان کا انتخاب فرمایا۔

مثلاً مکہ میں بیت اللہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ اب اس معاملہ میں آپ کو دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ ایک انتخاب تھا ۔ ۔۔ بیت اللہ میں داخل ہو کر بتوں کو توڑنا۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا انتخاب یہ تھا کہ پر امن طور پر تبلیغ کی جائے کہ اے لوگو، بت پرستی کو چھوڑو اور ایک خدا کی عبادت کرو۔ ان دونوں میں بت شکنی کا طریقہ واضح طور پر مشکل تھا اور پر امن تبلیغ کا طریقہ اس کے مقابلہ میں واضح طور پر آسان۔ چنانچہ آپ نے مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ کو لے لیا۔

اسی طرح ہجرت کے موقع پر آپ کے سامنے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ ایک یہ کہ مکہ والوں کے ظلم کے خلاف مسلح لڑائی چھیڑیں، اور دوسرے یہ کہ اپنے اصحاب کے ساتھ خاموش طور پر مکہ سے مدینہ چلے جائیں۔ یہاں بھی آپ نے مشکل طریقہ کو چھوڑ کر آسان طریقہ کا انتخاب فرمایا۔ غزوہ خندق کے موقع پر آپ کے علم میں یہ بات آئی کہ مشرک قبائل بارہ ہزار کی تعداد میں مسلح ہو کر مدینہ کی طرف بڑھ رہے ہیں، آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ نوجوان مسلمانوں کی رائے یہ تھی کہ ان کے خلاف جنگ کی تیاری کی جائے۔ اس کے مقابلہ میں حضرت سلمان فارسی نے بتایا کہ ایران میں جب اس قسم کی صورت حال پیش آتی ہے تو اپنے اور دشمنوں کے درمیان خندق کھود کر مسلح ٹکراؤ کو روک دیا جاتا ہے۔ اس وقت آپ نے حضرت سلمان فارسی کے مشورہ کو اختیار فرمایا جو دو ممکن صورتوں میں سے آسان صورت کے ہم معنی تھا۔ اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر آپ کے سامنے دو صورتیں تھیں ۔ ایک یہ کہ اپنے تقریباً پندرہ سو اصحاب کو لے کر قریش سے مسلح ٹکراؤ کریں۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا انتخاب یہ تھا کہ قریش سے صلح کر کے جنگ کو ٹال دیا جائے اور اپنی طاقت کو پر امن تبلیغ کی طرف موڑ دیا جائے۔ یہاں بھی آپ نے وہی طریقہ اختیار فرمایا جو مشکل کے مقابلہ میں آسان کا انتخاب لینے کے ہم معنی تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page