Al-Risala · March 1998 · page 31

فہم دین

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۳۱

اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے صرف عربی جاننا کافی نہیں۔ مذکورہ تمام افراد عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی مادری زبان عربی تھی ۔ اسی کے ساتھ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی تھے ۔ مگر مذکورہ حدیث کو وہ نہ سمجھ سکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان جاننے کے ساتھ آدمی کے اندر سنجید گی ضروری ہے جس کو قرآن میں تقویٰ کہا گیا ہے (البقرہ ۲۸۲) اگر سنجیدگی نہ ہو تو صرف عربی زبان کو جاننا قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ قرآن کے مطابق ، تقویٰ علم صحیح کا ذریعہ ہے (واتقوا الله ويعلمكم الله) آدمی کے اندر اگر تقویٰ کی صفت نہ ہو تو خارجی معلومات کا کوئی بھی ذخیرہ اس کا بدل نہیں بن سکتا۔ تقویٰ عالم کے لیے ایک خدائی لگام کی مانند ہے۔ یہ لگام اس کو ادھر اُدھر منحرف ہونے سے بچاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کا مفہوم متعین کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا مفہوم اپنی خواہشات اور اپنے تعصبات کے تحت مقرر کیا جائے۔ جو لوگ اس قسم کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ بظاہر ایک آیت یا ایک حدیث کا حوالہ دیں گے۔ مگر اس آیت اور اس حدیث میں وہ خود اپنے آپ کو پڑھ رہے ہوں گے نہ کہ خدا اور اس کے رسول کی بات کو۔ ایسے لوگ اپنے جذبات و خیالات میں اتنا زیادہ گم ہوتے ہیں کہ ان کے لیے یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ آیت یا حدیث کو بے لاگ انداز میں سمجھ سکیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی پوری طرح خالی الذہن ہو کر قرآن و حدیث کو پڑھے، وہ کھلے ذہن کے تحت یہ جاننے کی کوشش کرے کہ خود آیت یا حدیث کے الفاظ سے کیا مفہوم نکل رہا ہے ایسے ہی لوگ اس کے صحیح مفہوم تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

اس معاملہ میں تقویٰ کا رول یہ ہے کہ وہ آدمی کے اندر احتیاط کا مزاج بناتا ہے ، خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ آیت یا حدیث کا ٹھیک وہی مفہوم لے جو واقعی طور پر اس سے نکلتا ہے نہ کہ کوئی خود ساختہ مفہوم جو آدمی کے اپنے دماغ میں تو ضرورہے، مگر آیت کے الفاظ میں اس کاکوئی وجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page