بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۳۲
بمبئی کا سفر
بھارتیہ ودیا بھون کے زیر انتظام بمبئی میں ۲۹۔ ۳۰ جنوری ۱۹۹۵ کو ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کا موضوع تھا : اقدار پر مبنی سماج ۔ اس کی دعوت پر بمبئی کا سفر ہوا۔ یہاں اس کی مختصر رو داد درج کی جاتی ہے۔
۲۶ جنوری کی شام کو دہلی ائیر پورٹ پہنچا۔ یہاں بمبئی کے تین صاحبان مل گئے۔ یہ تینوں بمبئی کے مقامی لیڈر ہیں۔ اپنے قول کے مطابق، آئندہ الیکشن کے مسئلہ پر راجدھانی کے ’’مسلم لیڈروں ‘‘ سے بات کرنے کے لیے وہ دہلی آئے تھے اور اب یہاں سے واپس جارہے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ مسلمانوں کی انتخابی پالیسی کے بارہ میں آپ لوگوں نے کیا طے کیا۔ انھوں نے کسی قدر جوش کے انداز میں کہا : ہمیں نان کانگریس اور نان ہندو توپارٹیوں کاساتھ دینا ہے۔ ہمیں مسلم دشمن طاقتوں کو ہرانا ہے، یہ ہماری آنا کا سوال ہے۔
میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ تھرڈ فورس (third force) کو ووٹ دیں گے جس کے افراد آج کل آپ کی دل پسند باتیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے دوبارہ پر جوش طور پر جواب دیا : ہاں، اس میں کیا شک ہے ۔ میں نے کہا کہ نام نہاد تھرڈ فورس تو نو فورس ہے۔ اس کا ساتھ دے کر آپ صرف اپنے ووٹ کو ضائع کریں گے ۔ آپ کی اس نیگیٹو ووٹنگ کا فائدہ براہ راست انھیں لوگوں کو ملے گا جن کو آپ مسلم دشمن کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی مذکورہ انتخابی پالیسی سراسر ناکام رہی۔ ریاستی الیکشن فروری ۱۹۹۵ میں نام نہاد تیسرے محاذ (تھرڈ فرنٹ) کے نمائندے بری طرح باہر ہو گئے۔ اور انتخابات کے بعد بھاجپا اور شیو سینا نے مل کر مہاراشٹر میں اپنی حکومت بنائی۔ یعنی انھیں لوگوں نے جن کو مسلمان اس الیکشن میں ہرانا چاہتے تھے۔
حیرت انگیز بات ہے کہ مہاراشٹر کے مسلمانوں نے لوک سبھا کے الیکشن (اپریل۔ مئی ۱۹۹۶) میں اسی سابقہ غلطی کو پھر دہرایا۔ حیدر آباد کے روز نامہ سیاست (، جولائی ۱۹۹۶) میں ڈاکٹر مسعود علی خان (ICSSR) نے تفصیلی تجزیہ کر کے بتایا کہ ۱۹۹۶ میں گیارھویں لوک سبھا کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues