بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳
الیکشن نے اس خوش فہمی کا خاتمہ کر دیا ہے کہ مسلم ووٹ توازن کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ جس پارٹی کی طرف گر جائیں اس کی کامیابی یقینی ہے۔
یہ ایک نمائندہ واقعہ ہے جس میں نام نہاد مسلم لیڈروں کی پوری تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ لوگ اپنی سطحیت کی بنا پر ہمیشہ انا اور وقار کی سیاست چلاتے ہیں۔ اور اسی لیے وہ ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔ ان کو یہ سادہ سی حقیقت نہیں معلوم کہ الیکشن میں شرکت انا کی تسکین کے لیے نہیں ہوتی۔ بلکہ اس لیے کی جاتی ہے اگلے چند سالوں (نہ کہ ہمیشہ کے لیے) کمیونٹی کے مفادات کو بہتر امکان (نہ کہ مکمل طور پر) محفوظ کیا جا سکے ۔ وقار کی سیاست تباہی کی سیاست ہے۔ اور بدقسمتی سے نا اہل مسلم قیادت نے ہندوستان کے مسلمانوں کو اسی تباہی کا تحفہ دیا ہے ۔ دہلی سے بمبئی کا سفر انڈین ایرلائنس کی فلائٹ نمبر ۴۰۵ کے ذریعہ طے ہوا۔ جہاز ٹھیک وقت پر پونے چھ بجے روانہ ہوا، اور تقریباً دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد بمبئی پہنچ گیا۔ یہاں ایرپورٹ پر کئی ساتھی موجود تھے۔ ان کے ہمراہ شہر کے لیے روانگی ہوئی۔ یہاں میرا قیام ہوٹل میٹروپولیس کے کمرہ نمبر ۲۰۲ میں تھا۔
ہوٹل کے کمرہ میں تھوڑی دیر ساتھیوں سے گفتگو ہوئی۔ لوگوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد وقتی طور پر یہاں کے مسلمانوں میں الرسالہ مشن کے خلاف جو غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی وہ اللہ کے فضل سے اب تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ الرسالہ کی اور کتابوں کی مانگ دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ اس بحران میں وہی راستہ درست تھا جس کی رہنمائی الرسالہ میں دی گئی تھی۔
ہوٹل میں تھوڑی دیر قیام کے بعد ہم لوگ باندرہ کے جناب جاوید صاحب کے یہاں گئے ۔ ان کی رہائش گاہ پر نماز عشاء کے بعد ایک میٹنگ رکھی گئی تھی ۔ اس میں تعلیم یافتہ مسلمان تقریباً ۲۵ کی تعداد میں شریک ہوئے ۔ ان سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی کہ موجودہ زمانہ میں جو جدید تقاضے پیدا ہوئے ہیں وہ کیا ہیں اور ان کے درمیان رہتے ہوئے کس طرح اسلامی زندگی گزاری جاسکتی ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ٹی وی کی صورت میں جو کلچرل انویژن ہے اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues