حکمت دعوت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۷
اصولی اعتبار سے مطمئن نہ ہونے کے باوجود عملی اعتبار سے اس نے اس کو پسند کر لیا۔ چنانچہ گفتگو کے آخر میں شاہ روس نے مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا۔ پروفیسر رابرٹس کے الفاظ میں : ـــــــــ یہ واقعہ روس مکی تاریخ اور کلچر میں ایک نقطہ انقلاب بن گیا۔
It was a turning point in Russian history and culture. قدیم زمانہ ”الناس علی دین ملوکهم کا زمانہ تھا۔ چنانچہ روس کے لوگوں نے اپنے بادشاہ کے مذہب یعنی مسیحیت کو اختیار کر لیا۔ بہت جلد پورے ملک میں مسیحیت پھیل گئی۔ روس کا علاقہ موحدین کے بجائے غیر موحدین کا علاقہ بن گیا۔
مذکورہ علماء نے جو بات کہی وہ فقہی مسئلے کے اعتبار سے درست تھی، مگر وہ دعوتی مسئلے کے اعتبار سے درست نہ تھی۔ فقہ کی کتاب میں اسلام کے مسائل صرف اپنی قانونی حیثیت میں بیان کیے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فقہ کی کتابوں میں مسائل کی جو فہرست دی گئی ہے اس کو ویسے ہی کا ویسے ہی نافذ بھی کرنا ہے۔ عملی نفاذ میں تدریج کا اصول ہے نہ کہ فہرست بندی کا اصول۔ اسلام کے دور اول میں اسی تدریج کو استعمال کیا گیا۔ حتیٰ کہ کی دور میں یہ حال تھا کہ ایمان لانے کے باوجود شراب پینے والے شراب پیتے تھے۔ یہی تدریجی حکمت بعد کے زمانوں میں بھی اختیار کی جائے گی۔ تدریجی حکمت کے بغیر دعوت کی توسیع ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues