Al-Risala · March 1998 · page 39

بمبئی کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹

انسان کا معاملہ ہے، اگر انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ وہ ایک خدائی ٹیسٹ دے رہا ہے، اور صرف محدود مدت ہی اس کو حاصل ہے تو وہ مذکورہ لڑکیوں سے بھی زیادہ سنجیدہ ہو جائے گا۔ آفتاب احمد صاحب باندرہ میں کلثوم کتاب گھر چلاتے ہیں۔ یہ کتاب گھر عملاً الرسالہ اور الرسالہ کی مطبوعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک بار کچھ مخالفین نے انھیں دھمکی دی کہ تم الرسالہ اور الرسالہ کی مطبوعات کا کام بند کرو، ور ہم کتاب گھر میں آگ لگا دیں گے۔ آفتاب احمد صاحب نے کہا کہ بہت اچھا۔ آپ آئیے، میں اپنی طرف سے آپ کو پانچ لیٹرتیل فری دوں گا۔ انھوں نے پوچھا کیوں۔ انھوں نے کہا کہ اس لیے کہ اس سے تو ہماری پبلسٹی ہوگی۔ ہمارا کام اور نہ زیادہ بڑھ جائے گا۔ وہ شرمندہ ہو کر چلے گئے۔

۲۸ جنوری کی شام کو حسب ذیل افراد ملاقات کے لیے ہوٹل میں آئے :

مسٹر بی این جوگ، مسٹر دلیپ کورم بیلکر، مدھو دیو لیکر، گوپال بلی رام۔ یہ سب کٹر ہندو حلقہ سے تعلق رکھتے تھے اور صحافی تھے، دیر تک باتیں ہوئیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آج کا مسلم نوجوان کس طرح سوچتا ہے۔ نسیم علی خاں صاحب نے کہا کہ آج کے مسلم نوجوانوں کی سوچ یہ ہے کہ، ۱۹۴۷ میں جب بہت سے مسلمان پاکستان چلے گئے تو ہم نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے اس ملک کے لیے قربانی دی ۔ مگر ہندو لوگوں کی طرف سے ہمیں کوئی قدر دانی نہیں ملی۔

ایک ہندو نے کہا کہ آپ کی سوچ یہ ہے کہ آپ نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کر کے قربانی دی ہے۔ دوسری طرف ہندو نوجوان کی سوچ یہ ہے کہ دیش کے بٹوارہ کے وقت مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہنس کے لیا ہے پاکستان، لڑ کر لیں گے ہندوستان۔ اسی لیے آپ لوگ یہاں ٹھہر گئے تاکہ لڑ کر ہندوستان کو لے سکیں۔ میں نے سوچا کہ دونوں طرف کس طرح دو مختلف سوچ الگ الگ چل رہی ہے۔ اس کا علاج صبح پکار نہیں ہے، بلکہ زیادہ سے زیادہ میل ملاپ ہے۔ اس غلط فہمی کو میل ملاپ ہی کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔

مسٹر جوگ (پیدائش سنہ ۱۹۲۶) ہندوؤں کے انتہائی کٹر طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ آر ایس ایس کے سرگرم ممبر ہیں۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی ایک کتاب یہ ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page