بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۴۰
B.N. Jog, Threat of Islam; Indian Dimensions Unnati Prakashan, Bombay 1994 ۸۵ صفحہ کی یہ کتاب پوری کی پوری اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں آکر زبردستی یہاں کے ہندوؤں کو مسلمان بنایا۔ اب اس کا واحد حل یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو دوبارہ ان کے سابق مذہب کی طرف واپس کر دیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں کہ دونوں عمل میں فرق یہ ہوگا کہ ابتدائی تبدیلی مذہب (کنورژن) جبر کے ذریعہ ہوا، اب دوبارہ تبدیلی مذہب (reconversion) ان کے آزاد ارادہ کے تحت ہوگا (صفحہ ۴۸۲)
کتاب کی رسید بھیجتے ہوئے میں نے مسٹر جوگ کو لکھا تھا کہ میں فلاں تاریخ کو بمبئی آ رہا ہوں اور فلاں جگہ میرا قیام ہوگا۔ اس کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ملنے کے لیے آئے۔ میں نے ان سے بالکل معتدل انداز میں گفتگو کی۔ کسی قسم کی بیزاری کا اظہار نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب پڑھ لی ہے۔ اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلم حکمرانوں نے ہمیشہ ہندو کے اوپر ظلم کیا اور انھیں زبردستی مسلمان بنایا۔ یہی تمام مسائل کی اصل جڑ ہے، اور اب اس کا حل صرف ری کنورژن ہے، یعنی ان مسلمانوں کو دوبارہ ان کے قدیم مذہب کی طرف واپس لوٹانا۔
مگر کتاب میں یہ بات دعویٰ کی زبان میں کہی گئی ہے۔ اس کے حق میں کوئی تاریخی دلیل نہیں دی گئی ہے۔ جب کہ تمام بڑے مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ جبری تبدیلی مذہب کی بات تاریخ سے ثابت نہیں ہوتی۔ مثلاً انگریز مورخ ڈاکٹر ٹائٹس (Titus) نے لکھا ہے کہ ہندوستان میں اسلام کا داخلہ ایک پرامن داخلہ (Peaceful Penetration) تھا۔ یہی بات خود سوامی ویویکانند نے لکھی ہے۔ حتی کہ انھوں نے لکھا ہے کہ یہ کہنا ایک لغوبات (nonsense) ہے کہ ہندوستان میں جبری کنورژن ہوا ہے۔
پھر میں نے کہا کہ اگر ہندوستان کی تعمیر و ترقی کی پہلی شرط یہ ہے کہ پندرہ کروڑ مسلمانوں کو دوبارہ ہند وبنایا جائے تو پھر یہ ترقی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ جن ہندوؤں نے آپ کے بقول، جبر کے تحت اپنا مذہب بدلا تھا وہ سیکڑوں سال پہلے تھے موجودہ مسلمان تو ان کی بہت
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues