بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۴۱
بعد کی نسلیں ہیں۔ اور نفسیات اور تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب کوئی گروہ اپنا مذہب بدلتا ہے تو بعد کی نسلوں کے لیے وہ ان کا فخر بن جاتا ہے۔ موجودہ مسلم نسلوں کے لیے اسلام ان کا فخر ہے۔ اور دوبارہ تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی گروہ اپنے فخر کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ پچھلے پچاس برس میں اس نظریہ کے ماننے والوں نے مسلمانوں کے خلاف تشدد کی حد تک جاکر زبردست تحریک چلا رکھی ہے، مگر وہ کسی بھی مسلمان کو ”ری کنورٹ“ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مسلمان توحید کو اپنا فخر بنا چکے ہیں اور اب وہ ری کنورژن کو توحید سے شرک کی طرف واپسی سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کو ان کا فخر چھوڑنے پر راضی کیا جاسکے۔ پھر وہ کون سی تدبیر ہے جس کے ذریعہ اس ناممکن کو ممکن بنایا جاسکے گا۔ مسٹر جوگ نے میری باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ ان کے چہرہ سے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اپنے موقف کی کمزوری پر وہ شرمندہ ہو رہے ہیں۔
جناب ہارون شیخ صاحب نے بتایا کہ ضیاء الدین خلیفہ (۸۰ سال) انجمن ہائی اسکول میں پرنسپل تھے۔ ان کا ایک تجربہ بہت سبق آموز ہے۔ ان کا طریقہ تھا کہ وہ کلاس کا معائنہ کرتے اور لڑکوں کا جائزہ لیتے ۔ جس طالب علم کو دیکھتے کہ وہ سب سے زیادہ شریر ہے، اسی کو کلاس کا مانیٹر بنا دیتے ۔ اور وہ لڑکا بہترین مانیٹر ثابت ہوتا تھا۔
میں نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ شریر آدمی سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور جو آدمی میٹھی باتیں کرے اس کو اچھا سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ شریر آدمی کا مطلب یہ ہے کہ وہ غیر منافق ہے۔ اور غیر منافق آدمی ہی ہمیشہ کام کا ہوتا ہے۔ منافق آدمی سے آپ کسی بھی کام کی امید نہیں کر سکتے۔ جناب نسیم علی خاں صاحب نے ضیاء الدین خلیفہ صاحب کا ایک اور تجربہ بتایا۔ انھوں نے انجمن اسلام کے تحت انگلش میڈیم کا ایک اسکول کھولا اور اردو کو اس میں سیکنڈ لینگویج بنا دیا۔ انجمن اسلام کے تحت جو خالص اردو میڈیم اسکول چل رہے ہیں ان کے معیار کے بارہ میں عام طور پر لوگوں کو شکایت ہے۔ اس کے برعکس انگلش میڈیم اسکول اردو و سیکنڈ لینگویج کے ساتھ) کا معیار نہایت اعلیٰ ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ نسیم علی خاں صاحب نے کہا کہ اردو میڈیم والوں کے سامنے دوسرے اردو میڈیم اسکول ہوتے تھے۔ اس بنا پر ان میں مقابلہ کا جذبہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues