بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۴۲
پیدا انہیں ہوتا تھا۔ جب کہ انگلش میڈیم والوں کے سامنے مقابلہ کے لیے انگلش اسکول ہوتے ہیں جو نہایت اعلیٰ معیار پر چلائے جا رہے ہیں۔ اس بنا پر انگلش میڈیم کا معیار اپنے آپ زیادہ اونچا ہو جاتا ہے۔
میرے کمرہ میں ٹائمز آف انڈیا کا بمبئی ایڈیشن (۲۶ جنوری) موجود تھا۔ اس کے پہلے صفحہ پر ایک نمایاں چار کالی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ گاندھی سمادھی کی تقریب سے فراغت کے بعد مسٹر نیلسن منڈیلا ایک کرسی پر تعجب خیز مسرت کے انداز میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور مرکزی وزیر مسٹر جگدیش ٹائٹلر کے قدموں کے پاس زمین پر بیٹھ کر ان کو جوتا پہنا رہے ہیں۔ اس تصویر کے نیچے لکھا ہوا تھا :
South African President Nelson Mandela being helped by Union surface transport minister Jagdish Tytler to tie his shoes after laying a wreath at Gandhi samadhi in New Delhi on Wednesday. Rochell Mitirara, grand- daughter of Mr. Nelson Mandela, looks on. یہ نیلسن منڈیلا کی قربانیوں کی قیمت ہے۔ وہ ۱۹۱۸ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ساؤتھ افریقہ کی سیاہ فام اکثریت کی آزادی کی جد و جہد شروع کی۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزرا۔ یہاں تک کہ لمبی پر مشقت جد و جہد کے بعد ۱۹۹۳ میں وہ ساؤتھ افریقہ کے پہلے بلیک پریذیڈنٹ بنائے گئے۔ یہ ایک شخص کی قربانیوں کی وہ قیمت ہے جو دنیا میں اسے ملی۔ اسی طرح کچھ اللہ کے بندے آخرت کے لیے قربانیاں دیں گے ۔ اور پھر شاندار تر انداز میں وہ وہاں اس کی ابدی قیمت پائیں گے ۔
بھارتیہ ودیا بھون کا جلسہ ۲۹۔ ۳۰ جنوری ۱۹۹۵ کو تھا۔ وہ بھون کی وسیع عمارت کے ہال میں ہوا۔ بمبئی کے حلقہ الرسالہ کی طرف سے اس موقع پر الرسالہ کا اور کتابوں کا اسٹال لگایا گیا۔ بہت سے لوگوں نے کتابیں دیکھیں اور اپنے لیے حاصل کیں۔
دو روزہ اجلاس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں ، اور موضوع پر اپنے خیالات پیش کیے۔ میری تقریر ۳۰ جنوری کو تھی ۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ انسانی سماج وہی ہے جواقدار (respect) پر مبنی ہو۔ جس سماج میں اقدار مٹ جائیں وہ حیوانی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues