بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۴۳
سماج ہے، اس کے بعد اس کو انسانی سماج نہیں کہا جا سکتا۔
پھر میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جتنی بھی بڑی تحریکیں اٹھیں وہ سب روایت شکنی کی بنیاد پر اٹھیں، اور روایت شکن تحریکیں اٹھانا ہی اقدار کو توڑنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے یہاں اٹھنے والی تحریکیں ہی اگر سب کچھ ہوتیں تو اب تک ہمارے ملک میں اقدار کا یکسر خاتمہ ہو گیا ہوتا۔ مگر خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اقدار کا احترام خود انسانی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہے۔ یہی انسانی فطرت ہے جس کی بنا پر آج بھی کسی نہ کسی درجہ میں اقدار کا تصور ہمارے سماج میں باقی ہے۔
میں نے کہا کہ ہماری تعلیم گاہیں، ہمارا میڈیا، ہماری مجلسیں، غرض ہماری تمام فکری سرگرمیوں کو اقدار رخی ہونا چاہیے ۔ یہی کسی سماج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ سماج کے اندر اگر اقتدار کا تصور زندہ ہو تو بقیہ مطلوب چیزیں اپنے آپ زندہ ہو جائیں گی ۔ اور اگر اقدار مٹ جائیں تو بقیہ مطلوب چیزیں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی ۔
میں نے کہا کہ سو سال پہلے سوامی ویویکانند امریکہ گئے ۔ ایک روز وہ وہاں شہر کی ایک سڑک پر چل رہے تھے ۔ اس دوران ایک امریکی مرد اور عورت قریب سے گزرے ۔ سوامی جی حسب معمول سادہ قسم کے گیروے لباس میں تھے ۔ ان کو یہ لباس کچھ غیر مہذب دکھائی دیا۔ عورت نے اپنے مرد ساتھی سے سرگوشی کے انداز میں کہا کہ یہ شخص کوئی جنٹل مین دکھائی نہیں دیتا۔ سوامی ویویکانند نے اس کی یہ بات سن لی۔ سوامی جی آہستہ چل کر ان کے قریب گئے اور کہا کہ خاتون محترم، مجھے معاف کیجیے ۔ آپ کے دیس میں درزی کسی آدمی کو جنٹل مین بناتا ہے۔ مگر میں جس دیس سے آیا ہوں، وہاں کیریکٹر کسی آدمی کو جنٹل مین بناتا ہے:
Excuse me Madam. In your country tailor makes a man gentleman, but in the country from which I come character makes a man gentleman. سو سال پہلے ایک ہندوستانی امریکہ میں جا کر یہ بات کہہ سکتا تھا۔ مگر آج کوئی ہندوستانی باہر کے دیس میں اس قسم کی بات کہنے کی ہمت نہیں کر سکتا ۔ امریکہ کے ایک سفر میں میں نے ایک امریکی پروفیسر سے سوامی ویویکانند کا یہ واقعہ بیان کیا۔ اس نے جواب دیا کہ سو سال پہلے تمہارا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues