Al-Risala · April 1998 · page 44

انسان کو ستانا

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴

انسان کو ستانا

حدیث میں آیا ہے کہہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ تم لوگ خدا کے بندوں کو تکلیف نہ دو، اور ان کو عار نہ دلاؤ۔ اور ان کی پوشیدہ باتوں کو تلاش نہ کرو (لا تؤذوا عباد اللہ ولا تعیر وهم ولا تطلبوا عوراتهم) مسند احمد بحوالہ جامع العلوم والحکم، صفحہ ۲۹۳ اچھا انسانی سماج بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر اخلاقی احساس زندہ ہو۔ وہ دوسروں کی رعایت کرنا جانتے ہوں ، وہ اپنے اوپر دوسروں کا یہ حق سمجھتے ہوں کہ انھیں دوسروں کے لیے ہرگز مسئلہ نہیں بننا ہے ، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کے پاس بظاہر اس کے لیے کوئی عذر موجود ہو۔

ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ سماج کے اندر اس طرح رہے کہ اس سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اس کو اپنی زبان سے ایسے الفاظ نہیں نکالنے چاہئیں جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہونے والے ہوں ۔ اس کو ایسی کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہیے جس میں اس کی اپنی ذات کے لیے تو فائدہ ہو مگر دوسروں کے لیے وہ نقصان کا سبب بن جائے۔ ایسا ہر قول اور عمل گویا دوسروں کو ستانا ہے اور جو آدمی دوسرے انسانوں کو ستائے وہ ایک بے قیمت آدمی ہے خدا کی نظر میں بھی اور بندوں کی نظر میں بھی۔

آدمی کے ساتھ کبھی ایسا واقعہ پیش آتا ہے یا اس سے کوئی ایسی غلطی ہو جاتی ہے جس کے بارہ میں اس کو شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔ ایسی بات کا تذکرہ کر کے اس کو عار دلانا درست نہیں تم وہی تو ہو جس نے ایسا کیا یا جس کے باپ نے ایسا کیا ، اس قسم کی باتیں کہ کر کسی کو شرمندہ کرنا ایک غیر انسانی فعل ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوسرے کی عزت و حرمت کا بھی اتنا ہی لحاظ کرے جتنا وہ خود اپنی عزت و حرمت کا لحاظ کرتا ہے۔ ہر آدمی کی کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں ، جن کو وہ پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ دوسرے لوگ اسے جانیں۔ جو شخص لوگوں کی ایسی باتوں کے پیچھے پڑے ، وہ کھودکرید کر ان کاپتہ لگائے اور لوگوں کے درمیان ان کو پھیلائے ، وہ ایک ایسا غیر اخلاقی فعل کرتا ہے جو اچھا سماج بنانے کی راہ میں مستقل رکاوٹ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page