Al-Risala · April 1998 · page 45

زبان کا استعمال

الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵

زبان کا استعمال

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ــــ سب سے بڑے گناہ گار وہ لوگ ہیں جو بہت زیادہ بے فائدہ باتیں کریں (اکثر الناس ذنوباً اکثر هم كلاماً فيما لا يعنيہ) جامع العلوم والحكم، صفحہ ۹۹ انسان کو جو قیمتی چیزیں دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک نہایت قیمتی چیز زبان ہے۔ زبان کے ذریعہ آدمی بولتا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ دوسروں سے تبادلہ خیال کرتا ہے۔ زبان دوسروں سے تعلق قائم کرنے کا سب سے زیادہ اہم ذریعہ ہے۔ اس اعتبار سے زبان ایک ایسی نعمت ہے جو اس دنیا میں انسان کے سوا کسی اور کو نہیں دی گئی۔

زبان کو اگر بقدر ضرورت استعمال کیا جائے تو اس میں انسان کے لیے نہایت عظیم فائدے ہیں۔ لیکن اگر زبان کو غیر ضروری کاموں میں استعمال کیا جانے لگے تو یہ انتہائی مفید چیز انسان کے لیے ایک انتہائی مضر چیز بن جائے گی۔

زیادہ بولنے کا مطلب دوسرے لفظوں میں کم سوچنا ہے۔ جو آدمی ہر وقت بولتا رہے وہ اس سے محروم ہو جائے گا کہ وہ دوسروں کی باتیں سنے اور اس سے اپنی معلومات میں اضافہ کرے۔ زیادہ بولنا، ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر علم و فکر کی صلاحیت ترقی نہ کر سکے۔ یہ زبان کے بے ضرورت استعمال کا نتیجہ تھا۔ لیکن جب زبان کو غلط طور پر استعمال کیا جانے لگے تو اس کا نقصان اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ اس کا حساب لگانا ممکن نہیں۔ زبان کا غلط استعمال یہ ہے کہ آدمی اس کو دوسروں کی برائی کرنے میں استعمال کرے۔ وہ افواہوں کو پھیلائے اور غلط معلومات کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کرے۔ وہ زبان کے ذریعہ ایسی باتیں کرے جس سے لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے خلاف بے اعتمادی پیدا ہو۔ لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں، لوگ ایک دوسرے کے خلاف غیر ضروری شک میں مبتلا ہو جائیں۔ بے فائدہ کلام اگر زبان کی نعمت کی ناقدری ہے تو غلط کلام زبان کی نعمت کا برا استعمال ہے۔ اور خدا کی نظر میں دونوں ہی یکساں طور پر جرم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues

Printed page