بدلہ لینا
الرسالہ، اپریل ۱۹۹۸، صفحہ ۴۶
بدلہ لینا
قرآن میں ارشاد ا ہے : وإن عا قبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ (اگر تم بدلہ لو تو اسی کے مثل بدلہ لو جو تمہارے ساتھ کیا گیا ہے ، النحل ۱۲۶)
یہاں الفاظ بظاہر عام ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب لینا سراسر غلط ہوگا کہ کوئی شخص آپ کو گالی دے تو آپ بھی اس کے جواب میں اس کو اسی طرح گالی دینے لگیں۔ یہاں اگرچہ کوئی شرط مذکور نہیں مگر وہ یہاں مفہوم (understood) ہے ۔ وہ شرط یہ کہ تم جو بدلہ لو وہ اسلامی اخلاق کے دائرہ میں نہ ہو کہ اس سے باہر معروف اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی ہم اپنے کسی مخالف کا جواب دے سکتے ہیں نہ کہ معروف اسلامی اور اخلاقی حدود کے باہر ۔
مثلاً اگر کسی نے ہمارے خلاف نعرہ لگایا ہے تو ہم اس کو پتھر نہیں مار سکتے ۔ کسی سے ہم کو اصولی اختلاف ہے تو ہم الزام تراشی کے انداز میں اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ کسی قوم کے ایک فرد نے زیادتی کی ہے تو ہم اس قوم کے دوسرے افراد سے اس کا بدلہ نہیں لے سکتے ۔ کسی نے الفاظ کے ذریعہ ہماری دل آزاری کی ہے تو ہم گولی اور بم سے اس کو سزا نہیں دے سکتے۔ کسی نے ہم کو مالی نقصان پہنچایا ہے تو ہم اس کو قتل کر کے اس سے انتقام نہیں لے سکتے۔
اسی کے ساتھ اس کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بدلہ لینے کی بھی ایک حد ہے ۔ مومن اسلامی اخلاق کے باہر جا کر کسی سے بدلہ نہیں لے سکتا۔ مثلاً کوئی گالی دے تو وہ اس کو گالی نہیں دے گا۔ کوئی الزام تراشی کرے تو وہ اس کے جواب میں الزام تراشی نہیں کرے گا۔ کوئی شخص کمینہ پن کا انداز اختیار کرے تو وہ اس کے لیے کمینہ نہیں بن جائے گا۔
ایسے مواقع پر مومن کو بدلہ لینے کے بجائے اعراض کرنا ہے۔ مومن اسلامی اخلاق کے دائرہ میں بدلہ لے سکتا ہے ۔ اگر معاملہ اسلامی اخلاق کے دائرہ کے باہر کا ہو تو وہ خود صبر کرے گا اور معاملہ کو خدا کے حوالے کر کے خاموش ہو جائے گا ۔
برابر کا بدلہ لینا اسلام میں جائز ہے۔ مگر بدلہ لینا اتنا نازک کام ہے کہ جو شخص خدا سے ڈرتا ہو وہ اس کو زیادہ محفوظ طریقہ سمجھے گا کہ بدلہ لینے کے بجائے اسے معاف کر دے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1998 All issues